1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کا روس کے بارے ميں نئی حکمت عملی پر غور

عاصم سليم6 اپریل 2014

يورپی يونين کے وزرائے خارجہ کے اجلاس ميں روس کے حوالے سے نئی حکمت عملی زير غور آئی ہے جبکہ وزراء نے يوکرائن کے ساتھ حاليہ کشيدگی کے تناظر ميں ماسکو کے حوالے سے اپنے موقف ميں نرمی نہ لانے کے عزم کا اظہار کيا۔

تصویر: LOUISA GOULIAMAKI/AFP/Getty Images

يونان کے دارالحکومت ايتھنز ميں چار اور پانچ اپريل کو منعقدہ يورپی يونين کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اختتام پر پولينڈ کے وزير خارجہ رادوسلاو سکروسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ مزيد محاذ آرائی يورپی يونين کے مفاد ميں نہيں ہے۔ ايتھنز ميں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے سکروسکی نے کہا، ’’بد قسمتی سے اپنے اقدامات کی وجہ سے روس ہميں اس پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنی حکمت عملی ميں تبديلی لائيں۔‘‘

جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائرتصویر: picture-alliance/dpa

دوسری جانب سويڈن کے وزير خارجہ کارل بِلٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ يورپی يونين کے جارجيا اور مالدویا کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی تياريوں کے تناظر ميں روس کے ساتھ مزيد کشيدگی سے بچا جانا ممکن دکھائی نہيں دے رہا۔ بِلٹ کے بقول انہيں کافی حد تک يقين ہے کہ ماسکو حکومت ان دونوں رياستوں پر زور ڈالے گی کہ وہ يورپی بلاک کے ساتھ اضافی تجارتی روابط کے ان مجوزہ معاہدوں کو حتمی شکل نہ ديں۔ ان معاہدوں پر دستخط رواں برس جون ميں متوقع ہيں۔

دريں اثناء يورپی يونين کے خارجہ امور کی سربراہ کيتھرين ايشٹن نے کہا ہے کہ يوکرائن اور روس کے درميان کشيدگی کم کرنے کے ليے سفارتی کوششيں جاری رہيں گی۔

جمعے اور ہفتے کے روز منعقد ہونے والے ان غير رسمی اجلاس کا مقصد يورپی بلاک کے روس کے ساتھ روابط کا جائزہ لينا تھا۔ اجلاس کے بعد وزراء نے ماسکو حکومت پر زور ديا کہ وہ يوکرائن کے ساتھ کشيدگی ميں کمی لائے، بصورت ديگر مزيد پابنديوں سميت دوسرے تمام آپشنز دستياب ہيں۔

ترکی ميں يو ٹيوب اور ٹوئٹر پر پابندی، يورپی وزراء کی مذمت

اس اجلاس کے دوران يورپی يونين کے وزرائے خارجہ نے ترکی ميں مائکرو بلاگنگ ويب سائٹ ٹوئٹر اور ويڈيو شيئرنگ ويب سائٹ يو ٹيوب پر سرکاری پابندی کو ’ناقابل قبول‘ قرار ديا۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے کہا، ’’ہم نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ترکی ميں ہوتے ہوئے ديکھا ہے يعنی آزادی رائے اور معلومات کے تبادلے پر پابندی، اس سے جرمنی سميت کئی يورپی پارٹنر الجھاؤ کا شکار ہيں۔‘‘ اشٹائن مائر کے بقول وہ ملک جو يورپی يونين ميں شموليت کے سلسلے ميں مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے، وہاں آزادی رائے اور ميڈيا پر پابندی نہيں لگائی جا سکتی۔ کيتھرين ايشٹن نے بھی بتايا کہ اٹھائيس رکنی يورپی يونين کے وزرائے خارجہ نے ترک وزير خارجہ کے ساتھ يہ معاملہ اٹھايا ہے۔

گيس کی قيمتوں ميں اضافے کا روسی اقدام مسترد، يوکرائنی حکومت

اسی دوران يوکرائن نے گيس کی قيمتوں ميں اضافے کے تازہ روسی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے يہ دھمکی بھی دے دی ہے کہ وہ اس معاملے پر ماسکو حکومت کو ثالثی عدالت ميں لے جا سکتا ہے۔ کييف حکومت کے وزير اعظم آرسینی یاٹسَینی یُک نے تين ايام ميں گيس کے نرخوں ميں دو مرتبہ اضافے کو ’معاشی جارحيت‘ کے مساوی قرار ديا۔ روسی گيس کمپنی گيزپروم نے اسی ہفتے يوکرائن کے ليے گيس کی قيمتوں ميں 81 فيصد کے اضافے کا اعلان کيا ہے، جس کے سبب سابقہ سوويت یونین کی رياست يوکرائن کو اب يورپی خريداروں ميں سب سے زيادہ نرخوں پر گيس دستیاب ہو گی۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں