1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس، اہم فیصلے

افسر اعوان27 جون 2014

یورپی رہنما بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دو روزہ سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔ اس اجلاس کے موقع پر آج 27 جون کو یوکرائن کی طرف سے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

تصویر: Reuters

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران ایک اہم معاملہ یورپی کمیشن کے آئندہ سربراہ کا انتخاب بھی ہے۔ تاہم برطانیہ اس معاملے میں نہ صرف یورپی یونین میں تقریباﹰ تنہا نظر آتا ہے بلکہ اس پر برطانوی وزیراعظم قدرے غصے میں بھی دکھائی دیے۔ ڈیوڈ کیمرون جب سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچنے تو ان کا کہنا تھا کہ ژاں کلود یُنکر یورپین کمیشن کی سربراہی کے لیے مناسب شخص نہیں ہیں۔ کیمرون کا کہنا تھا کہ یُنکر اس تنظیم کو آگے لے جانے کے لیے درست امیدوار نہیں ہیں۔ کیمرون کا مزید کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے نقطہ نظر کی مخالفت کی جا رہی ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا ذہن تبدیل کر لیں۔

ژاں کلود یُنکر یورپین کمیشن کی سربراہی کے لیے مناسب شخص نہیں ہیں، ڈیوڈ کیمرونتصویر: Reuters

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ یُنکر کو یورپی کمیشن کا سربراہ بنانے کے حق میں ہیں۔ میرکل متعدد مرتبہ کہہ چکی ہیں کہ وہ ژاں کلود یُنکر کو یورپی کمیشن کا آئندہ صدر بنائے جانے کے حق میں ہیں۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ لکسمبرگ کے سابق وزیراعظم یُنکر کو بڑی اکثریت سے یورپی کمیشن کا سربراہ منتخب کر لیا جائےگا۔ کيمرون کا کہنا ہے کہ يُنکر قدامت پسند ہيں اور حاليہ يورپی انتخابات ميں دائيں بازو کی جماعتوں کی بہتر کارکردگی کے بعد وہ اس بلاک ميں اصلاحات کے ناگزیر عمل کو پيچيدہ بنا ديں گے۔ کیمرون بائيں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے مرکزی سیاستدان مارٹن شلس کو يورپی پارليمان کی صدارت پر براجمان دیکھنا چاہتے ہیں۔

یوکرائن کی طرف سے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے پر دستخط

یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے آج یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعاون کے تاریخی سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں۔ برسلز میں ہونے والے یورپی سربراہی اجلاس کے موقع پر پوروشینکو کا کہنا تھا کہ سابق سوویت یونین سے آزادی کے بعد یہ ان کے ملک کا ’اہم ترین دن‘ ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ژاں کلود یُنکر کو یورپی کمیشن کا آئندہ صدر بنائے جانے کے حق میں ہیںتصویر: Reuters

یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور تعاون کے اسی معاہدے سے پس وپیش کرنے کے باعث یوکرائن کے سابق صدر وکٹور یانوکووچ کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ سوویت یونین کی دو سابق ریاستوں جارجیا اور مولدووا نے بھی اسی طرح کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ دوسری طرف روس نے دھمکی دی ہے کہ اس معاہدے پر دستخط سے یوکرائن کے لیے ’سنگین نتائج‘ برآمد ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرائنی صدر پیٹرو پورو شینکو نے یورپی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ وہ یوکرائن کی طرف سے یکطرفہ فائر بندی میں تین دن کی توسیع کر رہے ہیں۔ کییف حکومت کی طرف سے مشرقی یوکرائن میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کے طور پر 21 جون کو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اس دوران قیام امن کی کوششیں کی جا سکیں۔ فائر بندی کا یہ وقت آج جمعہ 27 جون کو ختم ہو رہا تھا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں