یورپی یونین کا میانمار میں نمائندہ دفتر کھولنے کا منصوبہ
6 جنوری 2012یورپی یونین کی خارجہ پالسی کی نگران کیتھرین ایشٹن کے ترجمان مائیکل من نے بتایا کہ یہ دفتر ینگون میں کھولا جائے گا اور اس سلسلے میں میانمار کی حکومت سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس آفس میں عملہ محدود ہو گا اور یہ بنکاک میں قائم یورپی یونین کے دفتر کے ماتحت کام کرے گا۔ میانمار میں حکومت عوامی نمائندوں کو منتقلی کا عمل جاری ہے اور یورپی یونین کا یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مائیکل من نے بتایا کہ گو کہ یہ دفتر امدادی پروگراموں کی نگرانی کے لیے قائم کیا جا رہا ہے لیکن اس کا ایک سیاسی کردار بھی ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔ من کے بقول بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب جیسے ہی ینگون کی انتظامیہ اجازت دے گی یہ دفتر کھول دیا جائے گا۔
گزشتہ برس نومبر میں یورپی یونین نے کہا تھا کہ میانمار میں سیاسی اصلاحات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد اس ملک پرعائد پابندیوں میں نرمی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مطابق میانمار میں سول حکومت نے مثبت سمت میں اندازوں سے زیادہ اقدامات اٹھائے ہیں لیکن ابھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں پیش رفت کی ضرورت ہے۔ مائیکل من کے بقول یورپی یونین اس وقت اپنی پالیسی کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر بھی غور و خوص جاری ہے کہ انسانی حقوق کے علاوہ اور کن شعبوں میں میانمار کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی شعبے میں ہونے والی پائیدار اصلاحات ہی میانمار پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس طرح ہی مغربی ممالک تیل اور گیس کے علاوہ دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے میانمار میں دفتر کھولنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ ینگون کے دورے پر ہیں۔ آج ان کے تاریخی دورے کا آخری دن ہے۔ اس دوران انہوں نے آنگ سان سوچی سمیت صدر تھین سین سے بھی ملاقات کی۔ ولیم ہیگ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران میانمار کا دورہ کرنے والی پہلے برطانوی وزیر خارجہ ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی میانمار کا دورہ کر چکی ہیں۔
رپورٹ : عدنان اسحاق
ادارت : شادی خان سیف