یورپی یونین کا جدید ٹیکنالوجی میں زیادہ خود انحصاری کا عزم
7 جون 2026
برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کی اس خواہش اور اس پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار حال ہی میں یورپی کمیشن کی خاتون صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو ایک بلاک کے طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر ملکی تیار کنندہ اداروں کی فراہم کردہ مصنوعات پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بجائے آئندہ زیادہ خود انحصاری کی سوچ اپنانا ہو گی۔
میسنجر ایپ کے لیے یورپی یونین کے سخت قوانین: میٹا کی اپیل رد
فان ڈئر لاین نے کہا کہ بیرونی دنیا، خاص کر امریکہ پر اپنے موجودہ انحصار کو واضح طور پر کم کرنے کے لیے یورپ کو اپنی سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں اور مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو مزید ترقی دینے کے اپنے ارادوں پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔
’سونے سے بھی زیادہ قیمتی‘ ڈیجیٹل ڈیٹا دنیا کیسے تبدیل کر رہا ہے؟
یورپی کمیشن کی صدر نے برسلز میں کہا، ''ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے، جن سے ہمارے ہسپتال کام کرتے رہنے کی حالت میں رہتے ہیں، ہمارے انرجی گرڈز مستحکم رہتے ہیں اور ہمارا سروسز کا شعبہ محفوظ رہتا ہے، ان سب کے لیے ہم جدید ٹیکنالوجیز کی دستیابی کی خاطر دوسروں پر انحصار کرتے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘
یورپ کا سول نیوکلیئر انرجی ترک کرنا ’اسٹریٹیجک غلطی‘ تھی، فان ڈئر لاین
ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا، ''یہ زیادہ سے زیادہ خود انحصاری اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ ہمارے لیے یہ معاملہ اپنے شہریوں کے تحفظ، اپنے مفادات کی حفاظت اور اپنے لیے ہر طرح کا انتخاب خود کر سکنے کا ہے۔‘‘
مستقبل کے حوالے سے یورپ کی تشویش
یورپی کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین نے جدید ٹیکنالوجیز کے میدان میں آئندہ برسوں میں یورپ کی زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کے عزم کا اظہار اس سلسلے میں پائی جانے والی خاص طرح کی تشویش کے تناظر میں کیا ہے۔
قطر کا اے آئی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا پلان
مصنوعی ذہانت: انتہا پسند تنظیموں کا نیا ہتھیار
یورپی یونین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکہ اور چین اپنے بہت بڑے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کی طرف سے یورپی صارفین کو مہیا کی جانے والی خدمات کو محدود کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ یورپی سیاست دانوں میں اس سلسلے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ یورپی یونین ایک بلاک کے طور پر جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مستقبل میں امریکہ، چین اور دیگر ممالک کے مقابلے میں ممکن ہے کہ بہت ہیچھے رہ جائے۔
دنیا کا ’پہلا‘ برین ٹو وائس ٹرانسپلانٹ: قوت گویائی سے محروم افراد کے لیے نئی امید
اس سلسلے میں یورپی کمیشن نے مستقبل کے لیے جن بڑے منصوبوں کا ارادہ کیا ہے، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں اس وقت جتنے بھی ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، اگلے پانچ سے لے کر سات برسوں میں ان کی ڈیٹا اسٹور کرنے کی مجموعی صلاحیت بڑھا کر کم از کم بھی تین گنا کر دی جائے گی۔
ادارت: جاوید اختر