یورپی یونین کو’’ہیوی ویٹ‘‘ مسئلے کا سامنا
22 مئی 2013
یورپی کمیشن نے اس دوران خاص طور پر بچوں کی غذا پر توجہ مرکوز رکھی۔ اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین کے 50 فیصد شہری موٹاپے کا شکار ہیں۔ جسم میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بے غلط نہ ہو گا کہ آج کل یورپی یونین کو ایک ’’ہیوی ویٹ‘‘ مسئلے کا سامنا ہے۔
یورپی یونین کے تقریباً نصف شہریوں کا وزن اوسط سے زیادہ ہے۔ متعدد رکن ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران یہ مسئلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت’ ڈبلیو ایچ او‘ کی جانب سے کئی مرتبہ اس صورتحال سے خبردار بھی کیا جا چکا ہے۔ اس عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ موٹاپا ایک وبا کی صورت میں پھیل رہا ہے۔ یورپی کمیشن میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے ترجمان رائنہارڈ ہونِج ہاؤس کہتے ہیں کہ یورپی کمیشن اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے: ’’اس مسئلے کا بہت پہلے ہی اندازہ لگا لیا گیا تھا۔ رکن ممالک نے بھی یورپی کمیشن سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحت سے متعلق اپنی پالیسیاں رکن ممالک خود ہی بناتے ہیں لیکن یورپی کمیشن، رکن ممالک کے ساتھ مل کر موٹاپے سے ہونے والی بیماری Adipositas سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔‘‘
یورپی اعداد و شمار کے مطابق فربہ افراد رکھنے کی فہرست میں ہنگری، برطانیہ، آئرلینڈ اور مالٹا آگے ہیں۔ ان ممالک کا ہر چوتھے شہری کا وزن زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے کئی نقصانات ہیں اور ان میں سے یہ ایک یہ بھی ہے کہ شعبہ صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہو جاتا ہے۔ فربہ افراد میں مختلف بیماریوں کا شکار ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں یورپی کمیشن نے صحت بخش غذا کے فروغ سے متعلق ایک منصوبے کے لیے مالی تعاون بھی فراہم کیا ہے۔ جرمنی میں موٹاپے کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کی اسٹیفنی گیرلاخ کہتی ہیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود گزشتہ برسوں کے دوران موٹاپے کے مرض میں اضافہ ہوا ہے: ’’صرف آگاہی اور معلومات کی فراہمی ہی اس سلسلے میں اہم کردار ادا نہیں کرسکتی۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ واضح ہو گیا کہ معلومات مہیا کرنے کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔‘‘ گیر لاخ نے مزید بتایا کہ جرمنی میں نوجوان تیزی سے موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق موٹاپے کی بیماری اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں چکنائی اور بہت زیادہ کیلوریز والی غذا سستے داموں دستیاب ہوتی ہیں اور اس سے صورتحال بہت زیادہ اور بہت تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت اس بات پر زور دے رہا ہے کہ غذا کے حوالے سے آگاہی کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف میں شامل کیا جانا چاہیے۔ رائنہارڈ ہونِج ہاؤس کہتے ہیں، ’’اس بات کی خواہش کی جانی چاہیے کہ یورپ نے اس معاملے میں جو غلطی کی ہے دیگر ممالک اسے نہ دہرائیں۔ ایک طرح کی اس سماجی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ مناسب غذا کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں اور لوگوں کو ورزش کی اہمیت کے بارے میں بتانا بھی لازمی ہے۔‘‘
غذائی امور کے ماہرین موٹاپے کے شکار افراد کو کھانے پینے کی عادات تبدیل کرنے کے مشورے دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ وزن بڑھ گیا تو اسے کم کرنا بہت مشکل ہے۔ بلکہ ایسی صورت میں وزن کے مستقل بڑھتے رہنے کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
S.Pabst / ai / aba