یورپی یونین کی ایک روزہ سمٹ: ٹیکس فراڈ اہم موضوع
22 مئی 2013
کساد بازاری کے شکار یورپ کے 27 رکنی بلاک یورپی یونین کے رہنما اس کوشش میں ہیں کہ ٹیکس چھپانے یا پورا ٹیکس نہ ادا کرنے کے معاملے پر کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جائے تاکہ رکن ممالک ملکی خزانوں کو تقویت دیں سکیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق یورپی ملکوں میں ایک ٹریلین کے قریب ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا اور یہ خطیر رقوم دوسرے ممالک منتقل کر دی جاتی ہیں۔
ٹیکس فراڈ کے موضوع پر یورپی یونین کے لیڈران برسلز شہر میں ہونے والی ایک روز کانفرنس میں آج شریک ہو رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا اہم ترین موضوع بھی یہی ہے اور کانفرنس کے شرکاء اس مناسبت سے آسٹریا اور لکسمبرگ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ٹیکس چھپانے والوں کے حوالے سے طے پانے والے جامع پلان کو تسلیم کر لیں۔
سربراہ اجلاس کے حوالے سے یورپی یونین سمٹ کے چیرمین ہیرمن فان رومپوئے کی جانب سے جو دعوت نامہ ارسال کیا گیا ہے، اس میں بھی کہا گیا کہ ٹیکس کے معاملے پر شفافیت نہ صرف سیاسی اور سماجی اعتبار سے اہم ہے بلکہ مالی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ رومپوئے کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ کے شدید معاملوں کے علاوہ حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں کے تناظر میں ٹیکس فراڈ خا خاتمہ اور اس کی عدم ادائیگی محصولات کے لیے حد سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
یورپ میں حکومتوں کی سطح پر ٹیکس چھپانے یا فراڈ کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ اطالوی وزیراعظم اینریکو لیٹا نے اسے ناقابل بیان منافقت سے تعبیر کیا ہے۔ لیٹا کے مطابق ’ٹیکس ہیون‘ کہلانے والے ملکوں کے بارے میں گفتگو تو بہت کی جاتی ہے لیکن اس بابت یورپی اقوام میں ناقابل بیان منافقت پائی جاتی ہے۔
ٹیکس فراڈ کے حوالے سے گزشتہ ہفتے کے دوران یورپی وزرائے خزانہ کے اجلاس میں آسٹریا اور لکسمبرگ نے یورپی یونین کے طے شدہ ٹیکس پلان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یورپی لیڈران کے سربراہ اجلاس کے لیے ابتدائی میٹنگوں کا عمل آج صبح دس بجے سے شروع ہو جائے گا اور لیڈران ظہرانے کے بعد شروع ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ٹیکس کے جامع پلان کو حتمی شکل سن 2008 میں دی گئی تھی۔ اس کو تسلیم کرنے سے آسٹریا اور لکسمبرگ ابھی تک انکاری ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے حکام سوئٹزرلینڈ، اندورا، مناکو، سینٹ مارٹن اور لیشٹنسٹائن کے ساتھ بھی اسی معاملے پر مزید شفافیت پیدا کرنے کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ممالک ٹیکس ہیون تصور کیے جاتے ہیں۔ یورپی یونین کے حکام کے مطابق جامع ٹیکس کولیکشن پلان پر آسٹریا اور لکسمبرگ کی تائید سے یونین اگلے ماہ جی ایٹ کے آئر لینڈ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سر اٹھا کر شامل ہو سکے گی۔
آج ہونے والی سمٹ میں دیگر موضوعات میں توانائی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ ہیرمن فان رومپوئے کے دعوت نامے میں اس جانب بھی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ رومپوئے نے دعوت نامے میں تحریر کیا کہ یورپ خطرے کی دہلیز پر ہے کیونکہ یہ واحد براعظم ہے، جو برآمد شدہ انرجی پر انحصار کیے ہوئے ہے۔ آج کے ایک روزہ اجلاس میں توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے بیرونی سرمایہ کاری پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
(ah/ab(AFP