1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’یورپی یونین کی بقا خطرے میں ہے‘

4 فروری 2013

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب یورپی یونین کی اہم بجٹ سمٹ ہونے جا رہی ہے۔

تصویر: Reuters

مارٹن شلز نے یہ بات جرمن اخبار ’گینیرال آنسائیگر‘ سے گفتگو میں کہی ہے۔ اس گفتگو پر مبنی ان کا انٹرویو اس اخبار کے بون ایڈیشن کی پیر کی اشاعت میں شامل ہے۔

اپنے تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی بقا خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بلاک بڑی حد تک عوامی حمایت کھو چکا ہے۔ مارٹن شلز نے کہا: ’’جب لوگ کسی پراجیکٹ یا نظریے سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گزشتہ دِنوں لندن میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ان کی کنزرویٹو پارٹی 2015ء کے انتخابات میں کامیاب رہی تو وہ 2017ء کے آخر تک ایک ریفرنڈم کروائیں گے، جس میں یورپی یونین کی رکنیت رکھنے یا چھوڑنے کے بارے میں عوام کو رائے کا حق دیا جائے گا۔

اس تناظر میں شلز کا کہنا تھا کہ کیمرون نے ’کھلے زخم پر نمک چھڑکا ہے۔‘

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلزتصویر: picture-alliance/dpa

انہوں نے خبردار کیا کہ برطانوی اخراج ممکن ہو گیا تو رکن ممالک ’دنیا کے دیگر خطوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے کھلونا‘ بن جائیں گی اور ان کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

شلز نے کہا ہے کہ رکن ملکوں کی حکومتوں کے مابین اتحاد کی کمی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تنقید کی جو یورپی یونین کے اقدامات کو بارہا ناکام بنانے سے ظاہر ہوتی ہے۔

مارٹن شلز جرمن سیاستدان ہے اور وہ گزشتہ برس جنوری میں یورپی پارلیمنٹ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کا یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے اہم بجٹ مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ طویل المدتی بجٹ طے کرنے کے لیے قبل ازیں گزشتہ برس نومبر میں مذاکرات ہوئے تھے، تاہم رکن ممالک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ اب یورپی رہنما اسی ہفتے (سات اور آٹھ فروری) کو برسلز میں پھر سے بات چیت کریں گے۔

اُدھر فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ فرانس معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے لیکن انہیں کوئی فوری اتفاقِ رائے دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے اٹلی کے وزیر اعظم ماریو مونٹی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا: ’’آئندہ سمٹ میں معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہم پوری کوشش کریں گے، لیکن ابھی حالات ایسے (موزوں) نہیں ہیں۔

ng/ai (AFP, Reuters, dpa)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں