1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کی سیاسی پناہ کی پالیسی تذبذب کا شکار

پابسٹ صابرینا/ کشور مصطفیٰ14 فروری 2014

یورپی سرحدوں تک پہنچنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد پناہ کے حصول کی بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوتے ہیں۔ تاہم سرحدی علاقوں میں داخل ہوتے ہی انہیں مزاحمت اور رحم دلی کے فقدان کا سامنا ہوتا ہے۔

تصویر: picture-alliance/ROPI

سیاسی پناہ کے معاملے میں دونوں طرف ہی تعصبات پائے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی امسالہ سالانہ رپورٹ میں یورپی یونین کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے چیف کینتھ روُتھ نے حال ہی میں برلن میں سالانہ رپورٹ متعارف کرواتے ہوئے یورپی اتحاد سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی پناہ سے متعلق پالیسی میں اپنی ترجیحات دُرست کرے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین بحیرہ روم کی طرف آنے والے پناہ گزینوں کی کشتیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان پر سوار مسافروں کی امداد کی بجائے کشتیوں کو روکنے کی ممکنہ کوششوں پر توانائی صرف کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین میں شامل ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور اس کے رکن ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

’’اُس وقت اپنے ملک سے جلد از جلد نکلنے کے لیے مجھے 3000 جرمن مارک خرچ کرنا پڑے۔ مجھے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ قسمت مجھے یورپ کے کس ملک پہنچائے گی۔ جرمنی، اٹلی، یونان یا یورپ کے کسی اور ملک۔‘‘ یہ کہنا ہے کُرد نسل سے تعلق رکھنے والے حیدیرکارُل کا جو 1995ء میں ترکی کے کرد آبادی والے علاقے میں خانہ جنگی کی سی صورتحال کے خوف سے ملک سے فرار ہونا چاہتے تھے۔ تب اُن کی عمر 16 برس تھی۔ حیدیر نے بہت جلدی ہی اندازہ لگا لیا کہ اُن کے لیے جرمنی چلے جانا بہتر ہوگا، یہی راستہ سب سے سہل تھا۔ انہوں نے ترکی میں جرمن قونصل خانے میں جرمنی کے ویزے کی درخواست دی اور اُنہیں سفری اجازت نامہ مل بھی گیا۔ وہ سیدھے جرمن شہر ہیمبرگ پہنچ گئے۔

سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے حقوق کے لیے برلن میں ہونے والا مظاہرہتصویر: dapd

حیدیر ہیمبرگ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد جب اپنے ویزے کی مدت بڑھوانے کے لیے امیگریشن آفس پہنچے تو اُنہیں ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔ حکام اُنہیں فوری طور پر ملک بدر کرنا چاہتے تھے۔ نہ تو وہ کسی سے مل سکتے تھے اور نہ ہی کسی کو فون کر سکتے تھے۔ حیدیر نے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دی۔

اُنہیں بہت سے دیگر سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے کی اجازت دی گئی ساتھ ہی انہیں اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔

جس روز حیدیر نے غیر ملکیوں کے ویزہ آفس میں ایک سال کے لیے جرمنی میں قیام کے اجازت نامے کی اپیل درج کروائی تھی اُسی روز انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر جرمن سرزمین پر رہ رہے تھے۔

سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو اس طرح کی عمارتوں میں کڑی نگرانی میں رکھا جاتا ہےتصویر: Adil Chroat

پیٹرا بنڈل نیورمبرگ کی ارلانگن یونیورسٹی کے تحقیق کے مرکزی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں اور مہاجرین اور تارکین وطن کے امور کی ماہر ہیں۔ یہ یورپی سطح پر سیاسی پناہ اور ہجرت کے یکساں قوانین کی عدم موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہتی ہیں،’’یورپی یونین میں شامل ریاستیں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے یکساں قانون بنانے پر اتفاق کے باوجود اس میں ناکام نظر آتے ہیں، اب بھی حقیقت یہ ہے کہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ مختلف ملکوں میں ہونے والا سلوک ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ یونان، جرمنی، ہنگری، بلغاریہ، رومانیا، اٹلی یا مالٹا ہو۔ ان افراد کے ساتھ ہر ملک میں سلوک مختلف ہوتا ہے۔‘‘

پیٹرا بنڈل کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپی یونین اور اس کے ممبر ممالک کو پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کےمتلاشی افراد کے حقوق اور انسانی حقوق کے احترام سے متعلق خود اُن کی طرف سے بنائے گئے قوانین یاد دلاتے رہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور تنھک ٹینکس کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں یورپی یونین پر زور دیں کہ وہ تمام ممبر ممالک کے لیے پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے یکساں اُصول و قوانین کے اطلاق کو ممکن بنائیں۔

افسر اعوان

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں