ماضی میں یورپی یونین سے نکل جانے والے ملک برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ طالب علموں کے تبادلے کی ایراسمس (Erasmus) اسکیم میں دوبارہ شامل ہو جائے گا۔ اس فیصلے کی برطانوی حکومت نے تصدیق کر دی ہے۔
اس پروگرام کے تحت یورپی نوجوان بھی برطانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں گےتصویر: Daniel Kalker/picture alliance
اشتہار
برطانوی دارالحکوت لندن سے بدھ 17 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ روابط کے نگران وزیر نک ٹامس سائمنڈز نے کہا کہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا یہ فیصلہ ''برطانوی نوجوانوں کے لیے بہت بڑی فتح‘‘ ہے، جس کے بعد وہ جنوری 2027ء سے یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں پھر سے تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت حاصل کر سکیں گے۔
برطانیہ ماضی میں عشروں تک یورپی یونین کا حصہ رہا تھا مگر پھر قریب ایک دہائی قبل کرائے گئے ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد لندن حکومت نے برطانیہ کے اس بلاک سے اخراج کا فیصلہ کیا تھا، جسے عرف عام میں 'برٹش ایگزٹ‘ یا مختصراﹰ 'بریگزٹ‘ کہا جاتا ہے۔
بریگزٹ کے عمل کے دوران لندن اور برسلز میں یورپی یونین کی قیادت کے مابین کئی معاہدے طے پائے تھے، جن میں یہ طے کیا گیا تھا کہ یونین سے برطانیہ کے اخراج کے بعد دونوں کے مستقبل کے تعلقات کن کن شعبوں میں کس کس نوعیت کے ہوں گے۔
یورپی یونین کی ایراسمس اسکیم کے تحت ہر سال ہزارہا یورپی نوجوان اپنے ممالک سے باہر دوسرے یورپی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیںتصویر: Mirra Banchon/DW
اس دوطرفہ معاہدے کو ''پوسٹ بریگزٹ ری سیٹ ڈیل‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔
ماضی میں لندن میں جب وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت تھی، تو برطانیہ یورپی یونین کی اسٹوڈنٹس ایکسچینج اسکیم ایراسمس سے یہ کہہ کر نکل گیا تھا کہ تب برٹش گورنمنٹ اس اسکیم پر جتنی رقوم خرچ کر رہی تھی، ان سے حاصل ہونے والے فوائد ان رقوم سے متناسب نہیں تھے۔
اب لیکن اسٹارمر حکومت نے مئی میں طے پانے والے یورپی برطانوی معاہدوں کے تناظر میں لندن کی یورپی ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔
برطایہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ کی ایک علامتی تصویرتصویر: Christian Ohde/picture alliance
پہلے سال ایک لاکھ برطانوی نوجوانون کو فائدہ ہو گا
برٹش کیبینٹ آفس کے مطابق لندن حکومت نے ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ ان مالیاتی شرائط کے تعین کے بعد کیا ہے، جو یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں طے کی گئیں۔ اب اس یورپی اسکیم میں لندن کی شمولیت پر اخراجات بھی ماضی کے مقابلے میں کم ہوں گے۔
طے یہ ہوا ہے کہ ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کے لیے برطانیہ 2027ء میں 570 ملین پاؤنڈ (668 ملین ڈالر) ادا کرے گا۔ اس کے بعد کے برسوں میں یورپی یونین کی اس اسکیم میں شمولیت کے باعث لندن کی طرف سے ادا کیے جانے والے اخراجات کا تعین یونین کے ساتھ مذاکرات میں مستقبل میں کیا جائے گا۔
برطانوی وزیر نک ٹامس سائمنڈز کے مطابق ایراسمس اسکیم میں برطانیہ کی دوبارہ شمولیت کے بعد پہلے ہی سال ایک لاکھ سے زائد برٹش اسٹوڈنٹس یورپی یونین میں تعلیم و تربیت کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ اس تعلیمی تبادلہ پروگرام پر عمل درآمد کے لیے آئندہ ایک نیا قومی ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
لندن جانے کی دس وجوہات
بریگزٹ کے معاملے پر برطانوی پارلیمان میں رائے شماری پر پوری دنیا کی نگاہیں ہیں۔ مگر لندن کے مرکزِ نگاہ ہونے کی اور بھی وجوہات ہیں۔ یہ یورپ میں سیر کے لیے جانے والوں کا سب سے بڑا مرکز ہے، مگر کیوں؟
تصویر: picture-alliance/Daniel Kalker
دریائے ٹیمز
لندن میں سیاحت کے لیے سب سے زیادہ مشہور جگہیں دریائے ٹیمز کے کنارے ہیں۔ لندن میں اس دریا کے جنوبی کنارے پر ’لندن آئی‘، برطانوی پارلیمان کا حامل ویسٹ منسٹر محل اور مشہورِ زمانہ بگ بین ٹاور دیکھے جا سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/robertharding/M. Simoni
پُل
دریائے ٹیمز پر کئی پل ہیں، مگر ٹاور برج جیسی شہرت کسی دوسرے پل کی نہیں۔ سیاح اس پل کے انجن روم میں جا سکتے ہیں، جہاں کوئلے کے اصل برنر اور بھاپ کے انجن موجود ہیں، جو کسی دور میں کشتیوں کے گزرنے کے لیے پل کو اوپر اٹھانے کا کام سرانجام دیتے تھے۔ وہ افراد جو اونچائی سے ڈرتے نہیں، وہ اس پل پر شیشے کی بنی 42 میٹر اونچی ’اسکائی واک‘ پر چل سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/robertharding/A. Copson
عجائب گھر
لندن میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزم اور برٹش میوزم کو دنیا بھر میں بہترین عجائب گھر قرار دیا جاتا ہے۔ ٹیٹ ماڈرن میوزم میں جدید فنی تخلیقات موجود ہیں، جب کہ یہ ماضی میں ایک بجلی گھر ہوا کرتا تھا۔ بہت سے دیگر عجائب گھروں کی طرح اس میوزم میں داخلے کی بھی کوئی فیس نہیں۔
تصویر: Switch House, Tate Modern/Iwan Baan
موسیقی
کانسرٹس، کانسرٹس اور کانسرٹس۔ موسیقی کے دل دادہ افراد کو لندن ضرور جانا چاہیے۔ اس شہر میں کسی چھوٹے سے پب سے لے کر موسیقی کی بڑی تقریبات تک، ہر جگہ موسیقی کی بہار ہے۔ خصوصاﹰ موسم گرما میں ہائیڈ پارک لندن میں تو جیسے میلہ لگا ہوتا ہے۔
تصویر: picture-alliance7Photoshot/PYMCA
محلات
بکنگھم پیلس ملکہ برطانیہ کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ اس محل کے متعدد کمرے جولائی تا اکتوبر عام افراد کے دیکھنے کے لیے کھول دیے جاتے ہیں، کیوں کہ اس وقت ملکہ اسکاٹ لینڈ میں ہوتی ہیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ شاہی خاندان کے دیگر بہت سے محل بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/DPA/M. Skolimowska
پارک
لندن میں بہت سے قابل دید پارک، باغات اور باغیچے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے بڑے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ سبزہ لندن کا خاصا ہے۔ لندن کے ریجنٹ پارک کی پریمروز پہاڑی سے پورا شہر آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Design Pics/Axiom
دکانیں
لندن میں ہر طرح کے بجٹ کے لیے اور ہر دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ چھوٹے بوتیک سے لے کر بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز تک، حتیٰ کہ سیکنڈ ہینڈ سامان کی دکانیں بھی۔ اختتام ہفتہ پر لندن میں جگہ جگہ مارکیٹیں لگی نظر آتی ہیں۔ اس تصویر میں کیمڈن مارکیٹ کا منظر ہے۔ یہ مارکیٹ نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے۔
تصویر: picture-alliance/Eibner
گرجا گھر
ویسٹ منسٹر ایبے کے ساتھ سینٹ پال کا کیتھیڈرل لندن کا مشہور زمانہ گرجا گھر ہے، مگر لندن میں بہت سے دیگر کیتھیڈرلز بھی ہیں، جو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ ویسٹ منسٹر ایبے سن 1066ء سے شاہی خاندان کے انتقال کر جانے والے افراد کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس میں مشہور زمانہ سائنس دانوں کی قبریں بھی ہیں، جن میں ڈارون اور جے جے تھامسن سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک کئی شخصیات شامل ہیں۔
دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر ’شارڈ‘ سے لندن شہر پر ایک طائرانہ نگاہ۔ 244 میٹر اونچائی سے جیسے کوئی پورا شہر آپ کے سامنے رکھ دے۔ شیشے اور اسٹیل سے بنی یہ عمارت مغربی یورپ کی سب سے بلند عمارت ہے، اسے اسٹار آرکیٹکٹ رینزو پیانو نے ڈیزائن کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/robertharding/M. Ertman
مے خانے
لندن کی تاریخ ہی مکمل نہیں ہوتی اگر اس شہر سے یہ مے خانے نکال دیے جائیں۔ مقامی طور پر انہیں ’پب‘ کہا جاتا ہے اور یہاں آپ کو ہر طرح کی بیئر اور الکوحل والے دیگر مشروبات کی بہتات ملتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں لوگ گپ شپ بھی کرتے ہیں اور کھاتے پیتے شامیں گزارتے ہیں۔