1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تعليمبرطانیہ

یورپی یونین کی طلبہ تبادلہ اسکیم: برطانیہ پھر حصہ بن جائے گا

مقبول ملک پی اے میڈیا اور ڈی پی اے کے ساتھ
17 دسمبر 2025

ماضی میں یورپی یونین سے نکل جانے والے ملک برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ طالب علموں کے تبادلے کی ایراسمس (Erasmus) اسکیم میں دوبارہ شامل ہو جائے گا۔ اس فیصلے کی برطانوی حکومت نے تصدیق کر دی ہے۔

لندن کا مشہور زمانہ بگ بین اور عام شہری
اس پروگرام کے تحت یورپی نوجوان بھی برطانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں گےتصویر: Daniel Kalker/picture alliance

برطانوی دارالحکوت لندن سے بدھ 17 دسمبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ روابط کے نگران وزیر نک ٹامس سائمنڈز نے کہا کہ وزیر اعظم کیئر اسٹ‍ارمر کی حکومت کا یہ فیصلہ ''برطانوی نوجوانوں کے لیے بہت بڑی فتح‘‘ ہے، جس کے بعد وہ جنوری 2027ء سے یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں پھر سے تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت حاصل کر سکیں گے۔

یورپی یونین میں برٹش شہریوں کے اوور اسٹے کے خلاف خودکار نظام

برطانیہ ماضی میں عشروں تک یورپی یونین کا حصہ رہا تھا مگر پھر قریب ایک دہائی قبل کرائے گئے ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد لندن حکومت نے برطانیہ کے اس بلاک سے اخراج کا فیصلہ کیا تھا، جسے عرف عام میں 'برٹش ایگزٹ‘ یا مختصراﹰ 'بریگزٹ‘ کہا جاتا ہے۔

بریگزٹ کے عمل کے دوران لندن اور برسلز میں یورپی یونین کی قیادت کے مابین کئی معاہدے طے پائے تھے، جن میں یہ طے کیا گیا تھا کہ یونین سے برطانیہ کے اخراج کے بعد دونوں کے مستقبل کے تعلقات کن کن شعبوں میں کس کس نوعیت کے ہوں گے۔

یورپی یونین کی ایراسمس اسکیم کے تحت ہر سال ہزارہا یورپی نوجوان اپنے ممالک سے باہر دوسرے یورپی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیںتصویر: Mirra Banchon/DW

برسلز اور لندن کے مابین پوسٹ بریگزٹ ڈیل

لندن میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اسی سال مئی میں لندن اور برسلز کے مابین ایک ایسا نیا لیکن بہت تفصیلی معاہدہ بھی طے پا گیا تھا، جس میں پہلے سے طے شدہ معاہدوں میں جامع نوعیت کی متعدد ترامیم کی گئی تھیں۔

اس دوطرفہ معاہدے کو ''پوسٹ بریگزٹ ری سیٹ ڈیل‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

ماضی میں لندن میں جب وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت تھی، تو برطانیہ یورپی یونین کی اسٹوڈنٹس ایکسچینج اسکیم ایراسمس سے یہ کہہ کر نکل گیا تھا کہ تب برٹش گورنمنٹ اس اسکیم پر جتنی رقوم خرچ کر رہی تھی، ان سے حاصل ہونے والے فوائد ان رقوم سے متناسب نہیں تھے۔

اب لیکن اسٹارمر حکومت نے مئی میں طے پانے والے یورپی برطانوی معاہدوں کے تناظر میں لندن کی یورپی ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ نوجوانوں کے لیے نئی ویزا اسکیم پر متفق

برطایہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ کی ایک علامتی تصویرتصویر: Christian Ohde/picture alliance

پہلے سال ایک لاکھ برطانوی نوجوانون‌ کو فائدہ ہو گا

برٹش کیبینٹ آفس کے مطابق لندن حکومت نے ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ ان مالیاتی شرائط کے تعین کے بعد کیا ہے، جو یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں طے کی گئیں۔ اب اس یورپی اسکیم میں لندن کی شمولیت پر اخراجات بھی ماضی کے مقابلے میں کم ہوں گے۔

طے یہ ہوا ہے کہ ایراسمس اسکیم میں دوبارہ شمولیت کے لیے برطانیہ 2027ء میں 570 ملین پاؤنڈ (668 ملین ڈالر) ادا کرے گا۔ اس کے بعد کے برسوں میں یورپی یونین کی اس اسکیم میں شمولیت کے باعث لندن کی طرف سے ادا کیے جانے والے اخراجات کا تعین یونین کے ساتھ مذاکرات میں مستقبل میں کیا جائے گا۔

برطانیہ اور یورپی یونین کا نیا فوڈ بارڈر کنٹرول

برطانوی وزیر نک ٹامس سائمنڈز کے مطابق ایراسمس اسکیم میں برطانیہ کی دوبارہ شمولیت کے بعد پہلے ہی سال ایک لاکھ سے زائد برٹش اسٹوڈنٹس یورپی یونین میں تعلیم و تربیت کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ اس تعلیمی تبادلہ پروگرام پر عمل درآمد کے لیے آئندہ ایک نیا قومی ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں