یورپی یونین کی فری ٹریڈ ڈیل پر یوکرائنی صدر کے دستخط
28 جون 2014
برسلز میں یورپی یونین کے اقتصادی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد یوکرائن کے نئے صدر پیٹرو پورو شینکو نے پرجوش انداز میں جمعے کے دن کو اپنے ملک کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا۔ پوروشینکو کا مزید کہنا تھا کہ اقتصادی ڈیل پر دستخط کرنے کا دن یوکرائن کی آزادی کے بعد کا سب سے اہم دن ہو سکتا ہے۔
پوروشینکو کے دستخط کرنے کے بعد روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ معاہدہ عملاً نافذ ہو جائے گا تو روس اپنی منڈیوں کو محفوظ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ معاہدے کے عملی نفاذ میں مزید چند ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ دوسری جانب یورپی رہنماؤں نے فوری طور پر روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے ارادے کو بھی مؤخر کر دیا ہے۔
یورپی یونین کے ساتھ ڈیل پر دستخط کرنے کے بعد یوکرائنی صدر پوروشینکو نے یورپی رہنماؤں کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواب کی عملی تعبیر کے لیے یوکرائن نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔ پوروشینکو کا مزید کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ایک دِن اُن کا ملک یورپی یونین کا رکن بن جائے گا اور اِس کا شاید یونین پر اتنا اثر نہ ہو جتنا اُن کے ملک اور عوام پر ہو گا۔
معاہدے پر دستخط کے موقع پر یوکرائنی دارالحکومت کییف کے مرکزی آزادی اسکوائر میں سینکڑوں لوگ یورپی یونین کے جھنڈے کی رنگت والے نیلے غبارے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر یورپی یونین کا ترانہ بھی مجمعے نے مل کر پڑھا۔
جمعے کو جس معاہدے پر پیٹرو پوروشینکو نے دستخط کیے ہیں، اُس پر گزشتہ برس نومبر میں رواں برس معزول ہو جانے والے صدر وکٹور یانوکووچ نے ماسکو کے دباؤ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اُس انکار کے بعد یوکرائن کے مغربی حصوں میں روس مخالف اور یانوکووچ کے خلاف زور دار تحریک شروع ہو گئی۔ اِس تحریک کے دوران یانوکووچ منصبِ صدارت چھوڑ روس فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یوکرائنی جزیرہ نما کریمیا کو روس نے اپنی ملکی حدود میں ضم بھی کر لیا تھا۔ اسی دوران مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے اپنی مسلح تحریک بھی شروع کر دی۔
پوروشینکو نے کل جمعے تک کی جنگ بندی کا جو اعلان کر رکھا تھا، اب اُس کو پیر تک بڑھا دیا گیا ہے۔
سابقہ سوویت یونین کے زوال کے بعد یوکرائن کو آزادی سن 1991 حاصل ہوئی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ روس کی یہ خواہش رہی ہے کہ روسی ریاست کی قیام کی بنیاد جس ملک میں رکھی گئی ہے وہ ماسکو کے زیر اثر رہے لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔
روس کے آرتھوڈاکس چرچ کی پیدائش کا علاقہ بھی یوکرائن کو قرار دیا جاتا ہے۔