یورپی یونین کی پابندیوں پر روس کی برہمی
26 جولائی 2014
روسی وزارت خارجہ کی طرف سے ہفتے کے دن جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ تازہ پابندیوں کی فہرست اس بات کی غماز ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک روس کے ساتھ جاری تعاون کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کے اطلاق سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سلامتی کے معاملات پر تعاون متاثر ہو جائے گا۔
وزرات خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اضافی پابندیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کے علاوہ انسداد دہشت گردی، منظم جرائم کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور نئے چیلنجز اور خطرات پر تعاون متاثر ہو گا، ’’ہمیں یقین ہے کہ عالمی دہشت گرد اس طرح کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کریں گے۔‘‘
یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ممالک نے جمعہ 25 جولائی کو روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ابتدائی فریم ورک پر سمجھوتہ کیا تھا۔ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یورپی یونین نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹيکنالوجی کے شعبے پر پابندیاں نہيں لگائی جائیں گی تاکہ روس کے ليے انتہائی اہم گيس سيکٹر متاثر نہ ہو۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے روس پر پابندیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد یہ ہے کہ روس یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کا حصہ بنے۔
یورپی یونین کی طرف سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب مشرقی یوکرائن میں ملائشیا ایئر لائنز کا ایک مسافر بردار طیارہ تباہ ہوا ہے۔ اس حادثے میں اس جہاز میں سوار 298 ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی اور دیگر مغربی ممالک کا الزام ہے کہ یہ طیارہ روس نواز باغیوں کی طرف سے راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ماسکو حکومت ایسے الزامات مسترد کرتی ہے کہ اس نے باغیوں کو راکٹ لانچرز فراہم کیے ہیں۔ روس کی طرف سے یہ طیارہ تباہ کرنے کا الزام یوکرائن پر عائد کیا جاتا ہے۔
یورپی یونین نے روس کے سکیورٹی ادارے FSB اور فارن سروسز انٹیلی جنس ادارے کے سربراہان کے علاوہ دیگر کئی اعلیٰ اہلکاروں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفری پابندیوں کے علاوہ ان افراد کے اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔ یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ یہ افراد روس کی اس پالیسی کو تشکیل دینے میں نمایاں تھے، جس کی وجہ سے یوکرائن کی سالمیت اور خود مختاری خطرات کا شکار ہو چکی ہے۔ یوں اب یورپی یونین کی ان پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کی تعداد 87 جبکہ کمپنیوں کی تعداد بیس ہو گئی ہے۔
آج ہفتے کے دن ہی روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں امریکا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی وجہ سے یوکرائن کے بحران میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ماسکو کے مطابق امریکا کی طرف سے یورپ نواز کییف حکومت کی حمایت دراصل اس تنازعے کو ہوا دے رہی ہے۔ قبل ازیں پینٹاگون نے جمعے کے دن ہی کہا تھا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں کہ ماسکو مشرقی یوکرائن میں فعال روس نواز باغیوں کو مزید راکٹ لانچرز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے۔