یورپی یونین کے باعث دنیا محفوظ تر، زیادہ خوشحال: اوباما
24 جولائی 2015
واشنگٹن سے جمعہ چوبیس جولائی کی صبح ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر نے یہ بات برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو جمعرات کی شام اپنے دورہ افریقہ کے لیے روانگی سے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
روئٹرز کے مطابق باراک اوباما کے اس انٹرویو کے چند اقتباسات کل شام ہی نشر کر دیے گئے اور اس انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا، ’’برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت ہمیں بحر اوقیانوس کے آر پار کے تعلقات کے حوالے سے بہت زیادہ اعتماد دینے والی حقیقت ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ یورپی یونین نے دنیا کو محفوظ تر اور خوشحال تر بنا دیا ہے۔‘‘
امریکی صدر نے برطانیہ کے مستقبل میں بھی یورپی یونین کا رکن رہنے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار اس پس منظر میں کیا کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی قدامت پسند جماعت میں برطانیہ اور یورپ کے موضوع پر پائی جانے والی اس داخلی تقسیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو عشروں پرانی ہے۔
اسی تناظر میں کمیرون نے یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ نہ صرف برسلز کے ساتھ برطانوی اعتراضات کے سلسلے میں مذاکرات کے ذریعے ایک نئے تصفیے کی کوشش کریں گے بلکہ 2017ء کے آخر تک ملک میں ایک ریفرنڈم بھی کرائیں گے، جس میں عوام کو برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
داخلی سیاست میں اوباما کی پریشانی
روئٹرز کے مطابق اسی انٹرویو میں باراک اوباما نے یہ بھی کہا کہ صدر کے طور پر امریکا کی داخلی سیاست میں ان کے لیے سب سے زیادہ پریشانی اور پژمردگی کی بات یہ ہے کہ امریکا میں ابھی تک ’عام فہم منطق‘ کے تحت آتشیں ہتھیاروں سے متعلق ایسے نئے قوانین منظور نہیں کیے جا سکے جن کے ذریعے ہتھیاروں کے خونریز جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال کو روکا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس میں دیے گئے اس انٹرویو میں باراک اوباما نے مزید کہا، ’’اگر آپ نائن الیون کے بعد سے امریکا میں دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دیکھیں تو یہ 100 سے بھی کم ہے۔ لیکن اسی عرصے کے دوران آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے امریکا ہی میں جتنے انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا، ان کی تعداد ہزارہا بنتی ہے۔‘‘
امریکی صدر کے مطابق، ’’ہمارے لیے یہ بات بڑی تشویش کی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘‘