1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کے بجٹ پر اتفاق کے لیے مزید وقت لگ سکتا ہے، میرکل

23 نومبر 2012

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے اگلے سات سالہ بجٹ کے حوالے سے مختلف ممبر ریاستوں کے درمیان اختلاف رائے ختم کرنے میں مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔

تصویر: Reuters

یورپی یونین کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعرات کو رات گئے اپنے آغاز کے تقریبا ایک گھنٹے بعد ملتوی کر دیا گیا۔ اس کانفرنس میں اس وقفے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یورپی رہنماؤں کو بجٹ کے مسودے پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یورپی رہنماؤں کو یونین کے آئندہ سات برسوں کے لیے تجویز کردہ بجٹ مسودے پر اتفاق رائے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے یورپی رہنماوں میں اتفاق رائے کے حوالے سے ’کسی حد تک پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی یورپی یونین کے مستقبل کے لیے ان مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔ ان کے بقول موجودہ اقتصادی صورتحال میں یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اخراجات بہت زیادہ نہ ہوں۔

جرمنی اور فرانس کے درمیان اس معاملے پر خاصا فاصا پایا جاتا ہےتصویر: Reuters

دوسری جانب فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے آئندہ بجٹ کے لیے پیش کردہ مسودے سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ اس اجلاس میں زراعت کے شعبے کے لیے مزید سرمایے کی فراہمی پر زور دیتے رہیں گے۔ ’میں فی الحال بجٹ منصوبے کے مسودے پر مطمئن نہیں ہوں۔ ہمارے لیے یہ کٹوتی اب بھی بہت زیادہ ہے۔‘

واضح رہے کہ یورپی یونین کے سن 2014 تا 2020 کے لیے بجٹ کے سلسلے میں یورپی رہنما برسلز میں جمع ہیں۔ جمعرات کے روز شروع ہونے والے اجلاس میں یورپی کمیشن کی جانب سے بجٹ مسودہ پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے یورپی ممالک میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ برطانیہ، جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک مختلف شعبوں میں بجٹ کٹوتی کے خواہش مند ہیں جبکہ فرانس اور پولینڈ جیسے دوسرے سبسڈی حاصل کرنے والے ممالک ان کٹوتیوں کے خلاف ہیں۔

جمعرات کے روز یورپی کونسل کے صدر ہیرمن فان رومپوئے نے 2014ء تا 2020ء کے بجٹ کا نیا مسودہ پیش کیا۔ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کہہ چکے ہیں کہ وہ 2020ء تک سالانہ بجٹ کو 2011ء والے بجٹ کی سطح پر منجمد کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں برطانیہ یونین میں اپنا ویٹو کا حق بھی استعمال کر سکتا ہے۔

at/sks (dpa/AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں