1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کے ’توانائی یونین‘ کے منصوبے

امجد علی25 فروری 2015

یورپی یونین کے پالیسی سازوں نے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد اِس اٹھائیس رکنی بلاک کے ہر کونے میں گیس اور بجلی کی آزادانہ فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان منصوبوں کو ’توانائی یونین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

یورپی کمیشن کے نائب صدر ماروس سیفکووِچ برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، واضح رہے کہ ’توانائی یونین‘ اُنہی کے دائرہٴ اختیار میں آتی ہے
یورپی کمیشن کے نائب صدر ماروس سیفکووِچ برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، واضح رہے کہ ’توانائی یونین‘ اُنہی کے دائرہٴ اختیار میں آتی ہےتصویر: picture-alliance/epa/J. Warnand

یورپی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے دوران توانائی کے شعبے میں متعارف کروائے گئے اپنی نوعیت کے ان سب سے بڑے منصوبوں کی مدد سے سالانہ چالیس ارب یورو کی بچت کی جا سکے گی۔ دوسرے لفظوں میں پانچ سو ملین نفوس پر مشتمل یورپی یونین میں فی کس سالانہ اَسّی یورو کی بچت کی جا سکے گی۔

یورپی براعظم پر سب سے پہلے 1951ء میں ’کول اینڈ اسٹیل کمیونٹی‘ قائم کی گئی تھی، جو کہ یورپی یونین ہی کی ایک ابتدائی شکل تھیتصویر: picture-alliance/dpa

یورپی براعظم پر سب سے پہلے 1951ء میں ’کول اینڈ اسٹیل کمیونٹی‘ قائم کی گئی تھی، جو کہ یورپی یونین ہی کی ایک ابتدائی شکل تھی۔ تبھی سے یورپی اتحاد کے داعی توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ قریبی تعاون پر زور دیتے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ملک اپنی توانائی کی ایک تہائی ضروریات کے لیے ماسکو پر انحصار کرتے ہیں۔ یورپی کمیشن کا موقف یہ ہے کہ روس کی جانب سے یوکرائن کے علاقے کریمیا کو جبراً اپنے ساتھ ملانے پر پائے جانے والے تنازعے کے بعد یہ بات اور بھی زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ یونین کے رکن ممالک اپنے وسائل کو یکجا کریں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ملکوں کی قومی حکومتوں کی کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ توانائی سے متعلق فیصلوں کا کنٹرول ہمیشہ اُن کے اپنے ہی ہاتھ میں رہے۔

’توانائی یونین‘ سے متعلق تفصیلات یورپی کمیشن کے نائب صدر ماروس سیفکووِچ نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائیں۔ واضح رہے کہ ’توانائی یونین‘ اُنہی کے دائرہٴ اختیار میں آتی ہے۔ ماروس سیفکووِچ کے مطابق ’توانائی یونین‘ کے تحت جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، اُن میں دستیاب سپلائی کو سرحد پار مل کر استعمال کرنے کے لیے اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانا بھی شامل ہے، جس کے لیے یونین کے مالی وسائل خرچ کیے جائیں گے۔ دیگر اقدامات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹرمینلز کی تعداد بڑھانا اور مقابلہ بازی سے متعلق یورپی یونین کے قانون پر پُر زور طریقے سے عملدرآمد کروانا بھی شامل ہے۔

یورپی کمیشن کا موقف یہ ہے کہ روس کی جانب سے یوکرائن کے علاقے کریمیا کو جبراً اپنے ساتھ ملانے پر پائے جانے والے تنازعے کے بعد یہ بات اور بھی زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ یونین کے رکن ممالک اپنے وسائل کو یکجا کریںتصویر: DW

یورپی کمیشن رکن ملکوں اور کمپنیوں پر یہ بھی زور دے رہا ہے کہ وہ روس جیسے ممالک کے ساتھ توانائی کی بڑی مقدار کے سودے کرتے وقت کمیشن کے ساتھ صلاح و مشورے کی روایت ڈالیں تاکہ ماسکو حکومت کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی اُس حکمتِ عملی کا مقابلہ کیا جا سکے، جس کے تحت کچھ ملک دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر شرائط والے سودے کرنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ماضی میں مختلف حکومتیں اور کمپنیاں یورپی کمیشن کی معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ اب یورپی کمیشن یوکرائن اور روس کے تنازعے کے بعد جنم لینے والی نئی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال میں یہ امید کر رہا ہے کہ رکن ممالک توانائی کے شعبے میں زیادہ قریبی اشتراکِ عمل کے فوائد کو سمجھیں گے اور آئندہ کمیشن کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں تعاون کریں گے۔

ماحول دوست حلقوں نے ’توانائی یونین‘ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں گیس پر حد سے زیادہ توجہ دی گئی ہے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو قدرے کم اہمیت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان حلقوں نے توانائی کے استعمال میں آئندہ زیادہ کفایت شعاری سے کام لینے کے عزم کو سراہا بھی ہے۔

توانائی کے شعبے میں سرگرمِ عمل کمپنیوں نے ’توانائی یونین‘ کے منصوبوں کا خیر مقدم کیا ہے ا ور کہا ہے کہ توانائی کے مشترکہ منصوبوں کی مدد سے اخراجات میں کمی کی جا سکے گی، جس کا فائدہ بالآخر عام صارف کو پہنچے گا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں