یورپی یونین کے فیصلوں میں لابی گروپوں کا کردار
18 فروری 2013
یورپی یونین کی حالیہ سربراہ کانفرنس جیسے اجتماعات کے موقع پر صحافیوں کی بھی بے شمار تعداد موجود ہوتی ہے۔ یہ صحافی ایک ایک لمحے کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اس طرح بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ عام شہری بھی فیصلے کے عمل میں شریک ہیں۔ تاہم لابی گروپ، جن کے گمنام ارکان مقتدر لوگوں کے کانوں میں کھسر پھسر کرتے نظر آتے ہیں، مختلف حلقوں کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مخصوص فیصلے کرواتے ہیں۔
حال ہی میں ’دی برسلز بزنس‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم جرمن فرانسیسی ٹی وی چینل Arte سے نشر کی گئی۔ اس میں خفیہ کیمرے کی مدد سے فلمائے گئے ایک منظر میں یورپی پارلیمان میں آسٹریا کے قدامت پسندوں کے حزب کے قائد ایرنسٹ سٹراسر کو برسلز کے ایک ریستوراں میں ایک خاتون کو یہ بتاتے دکھایا گیا تھا کہ وہ پانچ گاہکوں کے مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں اور اس کے لیے سالانہ ایک لاکھ یورو وصول کرتے ہیں۔ سٹراسر کو مارچ 2011ء میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا کیونکہ یورپی اراکین پارلیمان پر کسی کے لیے بھی لابی کرنے کی ممانعت ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ برسلز میں لابی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایک عرصے سے اپنی سرگرمیاں قانونی طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس دستاویزی فلم پر چار سال تک کام ہوتا رہا ہے۔ اس فلم کا مقصد یہ جاننا تھا کہ یورپی یونین کی سطح پر نئے قوانین کے لیے آئیڈیاز کہاں سے آتے ہیں اور ان کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیا ان قوانین کے پیچھے جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومتیں اور اُن کے نمائندے ہوتے ہیں یا یہ کام بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منیجر سرانجام دیتے ہیں؟
فلم کے آسٹریا سے تعلق رکھنے والے فلمساز اور ہدایتکار فریڈرش موزر بتاتے ہیں:’’برسلز میں لابی گروپوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ مخصوص موضوعات کے بارے میں مہارت اور علم رکھتے ہیں۔‘‘
اُن کا کہنا ہے کہ مختلف قومی حکومتوں کے مقابلے میں یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمان کے پاس اتنا زیادہ عملہ نہیں ہوتا کہ وہ مختلف موضوعات پر ماہرانہ جائزے خود ترتیب دے سکیں، اس لیے وہ ایک طرح سے ان لابی گروپوں اور تھنک ٹینکس کے محتاج ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق برسلز میں لابیئنگ گروپس کے دس تا بیس ہزار افراد طاقت کے مراکز تک رسائی رکھتے ہیں اور کھلے عام یا درپردہ یورپی یونین کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ واشنگٹن کے بعد لابی گروپوں کی سب سے بڑی تعداد برسلز میں ہی ہے۔ برسلز کے رابرٹ شومان اسکوائر کے آس پاس تین تا چار مربع کلومیٹر کے علاقے میں جہاں یورپی یونین کے ا ہم اداروں کے دفاتر ہیں، وہیں اُن لابی گروپوں کے بھی دفاتر ہیں، جو مثلاً برٹش پٹرولیم، تمباکو کا کاروبار کرنے والے بڑے ادارے فلیپ مورس یا پھر کیمیائی مصنوعات تیار کرنے والے جرمن ادارے BASF کے لیے کام کرتے ہیں۔ لابی گروپوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے ادارے ’کارپوریٹ یورپ آبزرویٹری‘ کے اندازے کے مطابق بڑے کاروباری اور صنعتی ادارے آج کل لابنگ پر ایک ٹرلین یورو سے زیادہ کی رقم خرچ کر رہے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیمیں لابی گروپوں کی سرگرمیوں کو جمہوریت کے لیے ایک خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ انہی تنظیموں کی شکایت پر اب ان شخصیات کے بارے میں تحقیقات شروع ہوئی ہیں، جو یورپی اداروں میں کام کرتی تھیں اور اب لابی گروپوں کے لیے کام کر رہی ہیں یا پہلے لابی گروپوں میں سرگرم تھیں اور اب یورپی اداروں میں کام کر رہی ہیں۔
ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے لابی کنٹرول نامی این جی او کی نینا کاٹسے مِش نے بتایا:’’سابقہ یورپی کمیشن کے تیرہ میں سے پانچ کمشنر اب نجی اداروں میں پُر کشش عہدوں پر جا چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے اس امر کو ہدف تنقید بنایا کہ ان لوگوں کو نہ صرف یورپی اداروں کی اندرونی معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ یہ یورپی بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں تک بھی آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
R.Bosen/aa/ah