یورپی یونین کے لیے عوامی حمایت میں کمی: سروے
14 مئی 2013
امریکی دارالحکومت میں قائم PEW ریسرچ سینٹر نے اس موضوع پر یونین کے رکن کُل 27 میں سے آٹھ ملکوں میں جو حالیہ تفصیلی سروے کرایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں طویل اقتصادی بحران سے مختلف ریاستوں میں قومی رہنماؤں اور یونین کی مجموعی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں سے یونان، اٹلی اور اسپین میں تو بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان ملکوں کی معیشتوں کو یورپ ہی کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس کے باوجود جن آٹھ ریاستوں میں یہ سروے کرایا گیا، ان میں سے پانچ کے باشندوں کی اکثریت کا کہنا یہ ہے کہ یہ ممالک سرکاری اخراجات کم کر کے اپنے اقتصادی مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔
اس بین الاقوامی جائزے کے لیے اس سال مارچ میں 25 روز تک جرمنی، برطانیہ، اٹلی، فرانس، اسپین، یونان، پولینڈ اور چیک جمہوریہ میں قریب سات ہزار 650 شہریوں سے ان کی رائے لی گئی۔ جائزے سے پتہ یہ چلا کہ یونین کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے شہریوں کا تناسب ایک سال پہلے کے مقابلے میں 60 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گیا ہے۔
اس سروے کے نتائج مرتب کرنے والے بروس سٹوکس کے مطابق یورپی یونین کے لیے حمایت میں کمی کا تعلق کمزور معیشت سے ہے۔ بہت سے یورپی شہری اس لیے بھی منفی سوچ کے حامل ہو گئے ہیں کہ انہیں نہ تو اس سال اور نہ ہی اگلے سال اقتصادی بہتری کے کوئی واضح امکانات نظر آ رہے ہیں۔
بروس سٹوکس کہتے ہیں کہ اس وقت یونین میں فرانس کے علاوہ کوئی اور ملک ایسا نہیں جو تیز رفتاری سے اقتصادی تنزلی کا شکار ہو رہا ہو۔خود فرانسیسی رائے دہندگان میں سے 91 فیصد نے تسلیم کیا کہ ان کے ملک کی معیشت بری طرح تباہ ہو رہی ہے۔
اس جائزے میں صرف ایک فیصد یونانی، تین فیصد اطالوی، چار فیصد ہسپانوی اور نو فیصد فرانسیسی باشندوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ان کے ملکوں کی اقتصادی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔
مجموعی طور پر ان آٹھ یورپی ملکوں میں 88 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ یورپی مالیاتی بحران کے آغاز کے بعد سے ان کے ملکوں کی حالت خراب ہوئی ہے۔ جرمن باشندوں کے بقول ان ملکوں میں جرمنی شامل نہیں ہے، جو بحرانی حالات کے باوجود اپنی بہتر اقتصادی کارکردگی کو ابھی تک یقینی بنائے ہوئے ہے۔
سروے میں حصہ لینے والے شہریوں کے مطابق جرمنی اقتصادی لحاظ سے یونین کا سب سے قابل اعتماد ملک ہے۔ رائے دہندگان میں سے دو تہائی کے مطابق ان کی آئندہ نسلوں کو خود ان کے مقابلے میں زیادہ مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
hm / mm (AFP)