1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کے مجوزہ طویل المدتی بجٹ پر اختلافات برقرار

23 نومبر 2012

یورپی یونین کی دو روزہ سربراہی سمٹ کے دوسرے اور آخری دن بھی یورپی رہنماؤں کے مابین یونین کے 2014ء سے لے کر 2020ء کے مجوزہ طویل المدتی بجٹ پر اختلافات برقرار ہیں۔

تصویر: Reuters

یورپی یونین کے طویل المدتی بجٹ پر کسی سمجھوتے کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جمعرات کی شب برسلز میں شروع ہونے والی یورپی یونین کی دو روزہ سربراہی سمٹ میں اس بجٹ پر بحث ہونا تھی تاہم اس سمٹ کی سربراہی کر رہے یورپی یونین کے صدر ہیر من فان رومپوئے نے ایک گھنٹے بعد ہی شدید اختلافات کے باعث سمٹ کی کارروائی کو آج جمعے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرونتصویر: Reuters

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس بجٹ میں مزید کٹوتیوں کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پیش گوئی کی ہے کہ اس حوالے سے اختلافات ختم کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔

آج بروز جمعہ دوسرے دن اس سمٹ کے آغاز سے قبل ہی برطانوی وزیر اعظم نے کہہ دیا تھا، ’’میرا نہیں خیال کہ اس ضمن میں کوئی خاص پیشرفت ہوئی ہے۔‘‘ کیمرون کا مؤقف ہے کہ یونین کے اخراجات میں کمی کرنا ناگزیر ہے۔ نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے ایک سفارتکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی ہیرمن فان رومپوئے اور یورپی کمیشن کے صدر باروسو سے اپنی ملاقاتوں میں مجوزہ بجٹ میں قریب 110 بلین یورو کی کٹوتیوں کی حمایت کی ہے۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹے نے بھی کہا کہ ابھی تک اس بجٹ کے مسودے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ہالینڈ میں بھی بچت کر رہے ہیں اور یورپ بھر کے ملکوں میں بچتی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں۔ یونین کو بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ اخراجات میں کمی کے لیے تیار ہے۔‘‘

آج سمٹ کے دوسرے دن کی کارروائی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریا کے چانسلر Werner Faymann نے بھی اس بجٹ پر اتفاق رائے کے حوالے سے شک کا اظہار کیا تھا۔ دوسری طرف فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے یورپی یونین کے صدر ہیرمن فان رومپوئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کے شعبے میں مزید رقوم مختص کی جانی چاہییں۔ اسی دوران یورپی یونین کے سربراہ ہیرمن فان رومپوئے نے 2014ء سے 2020 تک کے بجٹ کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈتصویر: Reuters

آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی ایسے شکوک کا اظہار کیا کہ شاید رواں ہفتے اس بجٹ پر اتفاق کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ابھی اس حوالے سے مزید وقت درکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی رہنماؤں نے تھوڑی بہت پیشرفت دکھائی ہے، ’’لیکن آیا ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے، اس بارے میں مَیں شکوک رکھتی ہوں۔‘‘

متعدد یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یونین کے طویل المدتی بجٹ پر متفق ہونے کے لیے جنوری یا فروری میں ایک اور سمٹ کا انعقاد کیا جائے تاکہ اس دوران اس حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو دور کیا جا سکے۔

( ab /aa (AFP,dpa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں