یورپی یونین کے معاملات: کیمرون اور میرکل کی بات چیت
13 اپریل 2013
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کے خاندان کو جرمن دورے کی دعوت دی تھی۔ ڈیوڈ کیمرون جرمنی پہنچ چکے ہیں اور وہ دارالحکومت برلن سے ستر کلومیٹر کی دوری پر جنوب مغرب میں واقع میزے بُرگ (Meseburg) کے شاندار قلعے میں قیام کریں گے۔ جرمن چانسلر بھی اپنے شوہر کے ہمراہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات اسی سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رہیں گی۔
جمعے اور ہفتے کے دوران دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت کا عمل بھی جاری رہے گا۔ جمعے کے روز میرکل اور کیمرون کے درمیان ہونے والی میٹنگ کی تفصیلات کو عام نہیں کیا گیا۔ ایسی ہی ایک اور میٹنگ ہفتے کی صبح بھی شیڈول کی گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم اور جرمن چانسلر کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بعد کسی نیوز کانفرنس کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
برطانوی وزير اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دورے کی اہمیت کے حوالے سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اسٹیفن زائبیرٹ (Steffen Seibert) کا کہنا ہے کہ برطانیہ، جرمنی کے لیے یورپ کا ایک انتہائی اہم اور لازمی پارٹنر ہے۔ دوسری جانب کیمرون کی قدامت پسند جماعت کنزرویٹو پارٹی پوری یونین کے بارے میں متشک رویہ رکھتی ہے اور اسی تناظر میں ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین میں تبدیلیوں کا مطالبہ رکھتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کو بعض قوانین و ضوابط سے علیحدگی اختیار کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیٹچر کی رحلت کے بعد کیمرون نے اپنا ہسپانوی دورہ مختصر کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کے ساتھ مجوزہ ملاقات کو بھی مؤخر کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کو رواں برس کے دوران جرمنی اور فرانس کی جانب سے ان کی یورپی یونین میں اصلاحات کے مطالبے پر سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔ کیمرون نے برطانیہ کے یورپی یونین میں شامل رہنے پر سن 2017 میں ریفرنڈم کروانے کا اعلان بھی کروا رکھا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون یہ ریفرنڈم اگلے عام انتخابات میں جیتنے کی صورت ہی میں منعقد کرائيں گے۔ برطانیہ میں اگلے عام انتخابات سن 2015 میں ہوں گے۔
ابھی اسی ہفتے کے دوران ہی کیمرون کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ضوابط میں لچک پیدا ہونے سے اس کی مجموعی قوت میں اضافہ ہو گا اور برطانیہ کی رکنیت سے اگر اصلاحات یورپی یونین میں متعارف کروائی جاتی ہیں تو یہ بہت ہی مفید ہو گا۔ میرکل اور کیمرون کی ملاقاتوں میں یورپی یونین کے موضوع پر گفتگو کے علاوہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو بھی زير بحث لایا جائے گا۔ حال ہی میں لندن میں ختم ہونے والی صنعتی ملکوں کے گروپ جی ایٹ کی کانفرنس کے نتائج اور شام کی پیدا شدہ جنگی صورت حال کو بھی گفتگو کا حصہ بنانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
(ah/as(dpa, Reuters