1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کے نئے بجٹ پر اتفاق ہو گیا

9 فروری 2013

یورپی رہنما طویل مذاکرات کے بعد یورپی یونین کے آئندہ بجٹ پر متفق ہو گئے ہیں۔ بجٹ سمٹ جمعرات کو شروع ہوئی تھی، جو 24 گھنٹے سے زائد دورانیے تک جاری رہی۔

تصویر: Reuters

جمعے کو اس کے اختتام پر یورپی کونسل کے صدر ہیرمان فان رومپوئے نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بعدازاں انہوں نے ایک اور بیان میں کہا: ’’اس میں سب کے لیے بہت کچھ ہے۔‘‘

رومپوئے کا مزید کہنا تھا کہ 2014-2020ء کے بجٹ سے یورپی رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ ذمہ داری کا احساس ظاہر ہوتا ہے۔

آئندہ سات برس کے بجٹ کا حجم 960 ارب یورو رکھا گیا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یورپی یونین نے اپنے طویل المدتی بجٹ میں کٹوتی کی ہے۔ نیا بجٹ 2007-2013ء کے بجٹ کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔

تاہم اس بجٹ میں رومپوئے کی جانب سے یورپی یونین کے Cohesion Funds کے لیے تجویز کردہ رقوم میں کمی نہیں کی گئی ہے۔ یہ فنڈز نئی رکن ریاستوں کی ترقی کے تناظر میں انہيں پرانے ارکان کے مساوی لانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکلتصویر: picture-alliance/dpa

نومبر کے اجلاس میں بجٹ کا حجم 973 ارب یوروتجویز کیا گیا تھا جسے برطانیہ اور ہالینڈ سمیت بعض رکن ملکوں نے مسترد کر دیا تھا۔ یورپی کمیشن نے ایک ٹریلین یورو سے زائد کے حجم کا ہدف رکھا تھا۔

بجٹ پر اتفاق رائے کے ردِ عمل میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا تھا: ’’میں خوش ہوں کہ ہر کسی نے سمجھوتے کے لیے ضروری رضامندی ظاہر کی۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بجٹ میں کٹوتی کا مطالبہ کر رہے تھے اور انہوں نے نئے معاہدے کو اپنے عوام کے حق میں بہتر قرار دیا ہے۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں جب بہت سے یورپی ملک اپنے قومی بجٹوں میں کٹوتیوں پر مجبور ہیں، یورپی یونین اخراجات میں اضافہ نہیں کر سکتی۔

فرانس اور اٹلی شرح بے روزگاری میں کمی اور شرح نمو کے فروغ کے لیے یورپی یونین کی سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتے تھے۔ تاہم اب فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے نئے بجٹ کے اعدادوشمار کو ’ایک اچھا سمجھوتہ‘ قرار دیا ہے۔

یونانی وزیر اعظم انٹونِس سماراس بھی بہت پرجوش دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے بجٹ سے ان کے ملک کو 16 ارب یورو ملیں گے۔

بجٹ کی حتمی منظوری کے راستے میں ابھی ایک رکاوٹ باقی ہے۔ اسے یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ بچتی پروگراموں کے حق میں نہیں ہیں۔

ng/as (AFP, dpa)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں