یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اور مصر
21 اگست 2013
یورپی یونین کے اجلاس میں شریک سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلٹ کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی یورپی ملک مصر کو اسلحہ ایکسپورٹ نہیں کرے گا۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے پہلے جرمن ٹیلی وژن زیڈ ڈی ایف سے باتیں کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ یورپی یونین کے تمام ممالک مل کر مصر کو بھرپور طریقے سے یہ پیغام دیں کہ تشدد بند ہونا چاہیے اور فریقین کو واپس مذاکراتی میز پر بیٹھنا چاہیے۔ ویسٹر ویلے کا مزید کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس خلاء کو سعودی عرب اور روس پورا کر دیں گے۔ مصر میں دونوں جانب سے نا انصافی روا رکھی گئی ہے، ایسے میں کسی ایک یا دوسرے فریق کا ساتھ دینا درست نہیں ہو گا۔
ہالینڈ کے وزیر خارجہ فرانز ٹمرمانز نے اپنی پارلیمنٹ کو ایک خط تحریر کر کے واضح کیا ہے کہ نو سو کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد نمایاں اثرات مرتب ہوں گے اور ہالینڈ یورپی یونین سے خواہش رکھتا ہے مصر کی امداد میں کمی لانے کے علاوہ امداد کی بحالی کو بھی مشروط کیا جائے۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ مساعیل اشپینڈے لیگر نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں جمہوریت کی بحالی تک امداد کو منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین کے مصر کے لیے سفیر برنارڈینو لیون کا کہنا ہے کہ عرب اقوام کی جانب سے مصر کو امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی اقوام کی امداد کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حجم کی بات نہیں بلکہ معیار کی بات ہے۔ برنارڈینو کے مطابق مصر کی اقتصادی بحالی کے لیے سرمایہ کاری اہم ہے اور بیشتر سرمایہ کاروں کا تعلق یورپ یا امریکا سے ہے۔ برنارڈینو لیون کے خیالات جرمن اخبارزُوڈ ڈوئچے سائٹُنگ میں شائع ہوئے ہیں۔
یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے امدادی پر پابندی یا کٹوتی کا مصر کی عبوری حکومت پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہو گا کیونکہ خلیجی ریاستوں نے بھرپور انداز میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امداد فراہم کرنے والوں میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارت شامل ہیں۔ ان کی جانب سے اب تک بارہ ارب امریکن ڈالر کی امداد کا وعدہ سامنے آ چکا ہے۔