یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا اجلاس آج سے
12 اپریل 2013
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ڈبلن سے موصولہ ايک رپورٹ کے مطابق اس دو روزہ اجلاس ميں بینکاری نظام میں سیکریسی کے حوالے سے آسٹريا پر شديد دباؤ ہوگا۔ اسی دوران وزرائے خزانہ بيل آؤٹ پيکج کے تناظر ميں قبرص کی اقتصادیات پر بھی غور کريں گے۔
یورپی یونین کی خواہش ہے کہ آسٹریا کے بینک اپنے کھاتہ داروں کی تفصیلات یونین کے رکن ممالک کی حکومتوں کو فراہم کريں۔ اسی ہفتے لگسمبرگ حکومت بھی يہ فيصلہ کر چکی ہے کہ ملک ميں قائم بينک 2015ء سے فارن اکاؤنٹ ہولڈز کی تفصيلات يورپی يونين ميں شامل ان کے آبائی ملکوں کی حکومتوں کو فراہم کريں گے۔ اب آسٹريا وہ واحد ملک ہے جو ابھی تک اس اقدام پر رضامند نہيں ہے۔
آخری لمحات ميں اجلاس کے ايجنڈے ميں شامل کيا جانے والے ايک اور موضوع ٹيکس کی چوری کے حوالے سے بلاک کی پانچ طاقتور ترين اقتصادی قوتوں کے مابين اضافی تعاون کا ايک منصوبہ ہے۔ يہ معلومات آئرلینڈ کی جانب سے فراہم کی گئی ہيں، جو ان دنوں یورپی یونین کی صدارت کا حامل ملک ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ جرمنی یورپ کے بعض ملکوں کے بینکوں میں رکھے گئے خفیہ اکاؤنٹس کی مخالفت کرتا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ جرمن وزير خزانہ وولف گانگ شوئبلے اور ان کی آسٹرين ہم منصب ماريا فيکٹر (Maria Fekter) کے مابين گرما گرم بحث کا بھی امکان ہے۔ فيکٹر کہہ چکی ہيں کہ وہ اپنے موقف کے دفاع کے ليے ’شير کی مانند‘ لڑيں گی۔ انہوں نے گزشتہ روز ہی امريکا اور برطانيہ پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے چينل جزائر اور ڈيلاويئر جيسے مقامات پر ٹيکس چوروں کو چھوٹ دے رکھی ہے۔
اجلاس ميں قبرص کا موضوع بھی زير بحث آئے گا، جس پر بيل آؤٹ پيکج کے تناظر ميں شديد دباؤ ہے۔ نيوز ايجنسی روئٹرز اور چند ديگر ايجنسيوں کے ہاتھ لگنے والی دستاويزات يہ ظاہر کرتی ہيں کہ بيل آوٹ پيکج کی شرائط اس چھوٹے سے ملک پر کس قدر بوجھ ڈالتی ہيں۔
اجلاس ميں وزرائے خزانہ کو سلووينيا کے بڑھتے ہوئے اقتصادی مسائل پر بھی اظہار خيال کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ يورو زون کے ليے بينکنگ يونين کے قيام پر بھی بحث و مباحثہ کا قوی امکان موجود ہے، جسے ايک اہم طويل المدتی اصلاحاتی پلان کے طور پر ديکھا جاتا ہے۔
as/ah (Reuters)