یورپی یونین کے وزرائے مالیات کی ٹیکس دھندگان پر کڑی نظر
4 ستمبر 2013
تاہم یہ عمل توقعات سے زیادہ وقت طلب ہوگا۔ یورپی یونین نے اس سلسلے میں نئے رہنما اصول وضع کئے ہیں مگر یہ کام پرانے طریقوں کی مدد سےکیا گیا ہے۔
آسٹریا ہو یا لگزمبرگ، یورپی یونین میں بہت ہی منافع بخش ممالک شامل ہیں جہاں سرمایہ کاری کی خواہش ہر کوئی کرتا ہے۔ ان ممالک میں سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی اس لیے بھی ہوتی ہے کہ یہاں اثاثوں پر ٹیکس ادا کرنے والے حکام سے بچ سکتے ہیں۔ ٹیکس کے قوانین میں پائے جانے والے جھول جن کی وجہ سے ٹیکس دھندگان ٹیکس بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، یورپی وزرائے خزانہ کے آنکھوں میں ایک عرصے سے کانٹے کی مانند چُبھ رہے ہیں۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے یورپی یونین اپنے ضوابط کی مدد سے اس خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے یونین میں شامل تمام ممالک کے باشندوں کے بینک اکاؤنٹس کا پوچھا جاتا ہے اور شہریوں کے بینکوں کے ڈیٹا کو ایک سوفٹ ویئر کے ذریعے خود کار طریقے سے یورپی یونین کے تمام ممالک کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔
جرمنی کے ٹیکس یونین کے صدر تھوماس آئیگنتھالر تاہم اس سارے عمل میں ایک اہم مسئلہ دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تمام تر قوانین کا کاغذی شکل میں آنا۔ اطلاعات کی فراہمی کا ایک ایسا طریقہ جس کا بین الاقوامی ڈیٹا تبادلے کے نظام میں تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ آئیگنتھالر کہتے ہیں،" یورپی ممالک میں ٹیکس کا کوئی ایک یا یکساں نظام نہیں پایا جاتا بلکہ مختلف ممالک میں مختلف نظام رائج ہے اور ہر ملک کے پاس اُس کا اپنا سوفٹ ویئر ہے۔ اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا کے تبادلہ کا کام الیکٹرانک طریقے سے ہو۔
وقت کے خلاف دوڑ
جرمنی کا وفاقی دفتر برائے ٹیکس وفاقی جرمن وزارت خزانہ کا حصہ ہے۔ اس کا کام تمام اطلاعات کو اکھٹے کر کے ملک گیر سطح پر پھیلانا ہے۔ آئیگنتھالر کے مطابق یہ انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ بہت سے کیسز میں معاملہ بہت چھوٹی رقم کا ہوتا ہے، جن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ اس طرح ٹیکس کے ہر ایک دفتر میں محض 0.5 فیصد ٹیکس دھندگان پر ان قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ خود کار الیکٹرانک ڈیٹا نظام کی مدد سے مالیاتی اداروں کے کارکنوں کا قیمتی وقت بچ سکے گا۔ فی الالحال 2010 ء اور 2011 ء کی رپورٹوں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
بہت سے چھوٹے جانور ان کا بہت کم فُضلہ
جرمن صوبے حسے کی مالیاتی امور کی اسٹیٹ سکریٹری لوئیزے ہولشر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ٹیکس دھندگان کے گزشتہ سال کے ٹیکس کی چھان بین کو عمل میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لوئیزے اس بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کرتی ہیں کہ ڈیٹا کے تبادلے کے پیچیدہ نظام سے ٹیکس دھندگان کو پہنچنے والے منافعے کا اندازہ لگانے میں واقعی مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ صوبائی مالیاتی دفاتر کے لیے اپنے اپنے صوبوں سے ملنے والی معلومات کوئی خاص کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ 2005 ء سے 2008 ء کے دوران صوبے حسے میں ٹیکس کی چھان بین سے متعلق ہزاروں کنٹرول پیغامات بھیجنے کے بعد لگائے گئے حساب کے تحت کوئی ایک ملین یورو کی رقم زیادہ آمدنی کے طور پر ثابت کی جا سکی۔
پابسٹ صابرینا/ کشور مصطفیٰ/ زبیر بشیر