1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

Strengere Klimaschutzziele bis 2030

Monika Guarino28 مارچ 2013

ابھی 2020ء آنے میں سات سال باقی ہیں۔ تب تک کے لیے یورپی یونین نے ماحولیات اور توانائی سے متعلق تین بڑے اہداف مقرر کر رکھے ہیں۔ یورپی کمیشن نے ابھی سے 2030ء تک کے اہداف پر بھی غور شروع کردیا ہے۔ آخر ابھی سے کیوں؟

تصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین کے توانائی کے امور کے کمشنر گنٹر اوئٹنگر کے بقول یورپی یونین 2020ء کے اہداف بڑی حد تک حاصل کر چُکی ہے۔ یورپ 2020ء تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 20 فیصد کمی اور توانائی کی پیداوار کا 20 فیصد قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہو گا۔ تاہم توانائی کے استعمال میں 20 فیصد کمی لانے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن یورپ اس ہدف کے حصول کی بھی پوری امید رکھتا ہے۔

یورپی کمیشن کا ماننا ہے کہ تحفظ ماحول اور توانائی کی پالیسی کو ایک طویل المدتی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے لیے 2020ء گزشتہ کل کی بات ہے جبکہ 2030ء دراصل اس شعبے کا مستقبل یا آنے والا کل ہے۔ یورپی کمیشن ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو جتنی جلدی ممکن ہو سکے، یہ بتانا چاہتا ہے کہ حالات کس سمت جا رہے ہیں۔

جرمنی نے پون بجلی کے لیے متعدد ونڈ پارکس بنا رکھے ہیںتصویر: AP

ہوا سے حاصل شُدہ بجلی، پورے یورپ کے لیے

یہ بات تو طے ہے کہ مذکورہ تینوں مقاصد کی پیروی کی جائے گی۔ تاہم یورپی یونین کے توانائی کے امور کے کمشنر اوئٹنگر کے خیال میں 2030ء تک کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے بارے میں ابھی سے ہدف طے کرنا جلد بازی ہو گی۔ تاہم توانائی کی بچت یا اس کے استعمال میں 30 فیصد سے زائد کمی کا ہدف طے کیا جانا چاہیے۔ اوئٹنگر کے لیے لیکن ایک امر نہایت اہم ہے اور وہ یہ کہ گھریلو صارفین اور آجرین کے لیے توانائی کی قیمت قابل برداشت ہو اور یہ صنعت یورپ میں ہی رہے۔ یورپی یونین کے توانائی کے کمشنر 2020ء تک کے لیے طے کردہ تینوں اہداف کو یورپی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُن کے خیال میں توانائی کا شعبہ یورپی سطح پر ابھی ترقی پذیر ہے اور اس سلسلے میں پالیسیاں قومی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دی جاتی ہیں، جس کے نقصانات پورے یورپ پر مرتب ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر جرمنی اور دیگر کئی یورپی ممالک میں پون بجلی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہوا ہر وقت نہیں چل رہی ہوتی۔ یورپی یونین کے توانائی کے امور کے کمشنر اوئٹنگر اس شعبے کا ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو پورے یورپ کے لیے ایک نیٹ ورک کی حیثیت رکھتا ہو کیونکہ ہوا کہیں نہ کہیں ہمیشہ چل رہی ہوتی ہے۔

کمیشن:بحران کے باوجود متبادل توانائی

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی ماحولیات کی کمشنر Connie Hedegaard کے بقول توانائی اور ماحولیات کی پالیسی کے ضمن میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے یورپی یونین میں باہر سے توانائی درآمد کرنے سے متنبہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ درآمدات مہنگی ہوتی جائیں گی۔ اس لیے ایک ایسی معیشت کی ضروت ہے، جس کی بنیاد توانائی کی بچت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور ماحولیات کو کم سے کم ضرر پہنچانے جیسے بنیادی اصولوں پر ہو۔

زیادہ تر جرمن باشندے شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے حق میں ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین کی ماحولیات کی کمشنر Connie Hedegaard نے کہا کہ یہ معاملہ محض ماحولیاتی پالیسی کا نہیں بلکہ اقتصادی ضرورت کا ہے۔ ان کے بقول یورپ کو اب اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ ماحول پسند پالیسیوں کا چیمپئن ہے۔ دوسری طاقتیں بھی اس ضمن میں کافی آگے نکل گئی ہیں، حتیٰ کہ چین نے بھی، جو ایک عرصے تک موسمیاتی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا ہے، حال ہی میں ایک پنچ سالہ منصوبہ بنایا ہے، جس میں یورپی یونین کے اہداف سے ملتے جلتے مقاصد طے کیے گئے ہیں۔ Connie Hedegaard کے بقول جو بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا، وہ مستقبل میں اقتصادی طور پر فائدے میں رہے گا۔

یورپی کمیشن کی طرف سے پیش کردہ اہداف پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ یورپی پارلیمان میں توانائی کی پالیسی سے متعلق گرین پارٹی کے ترجمان Claude Turmes کے بقول 2030ء تک توانائی کے باکفایت استعمال اور قابل تجدید توانائیوں کے شعبے میں کوئی واضح اور مربوط اہداف مقرر نہیں کیے گئے ہیں۔ اُن کے خیال میں حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو 2030ء تک توانائی کے مجموعی استعمال میں قابل تجدید توانائیوں کی شرح 45 فیصد تک ہی ہو گی۔ ماحولیاتی تنظیم WWF کے مطابق بھی یورپی کمیشن نے زیادہ بھرپور اہداف مقرر نہیں کیے ہیں۔ اس تنظیم کے جیسن اینڈرسن نے کہا کہ ’اگر ہم نے زمینی درجہء حرارت میں خطرناک حد تک اضافے کو نہ روکا تو پھر ہم باقی سبھی اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی اہداف کو حاصل نہیں کر سکیں گے‘۔

H.Christoph/km/aa

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں