یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر
22 اپریل 2026
ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے پر بھی تیار ہیں، جس کا کام خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز میں معمول کی محفوظ تجارتی جہاز رانی کی بحالی ہو گا، تاہم اس انٹرنیشنل مشن کو موجودہ ایران جنگ ختم ہونے سے پہلے اس آبنائے میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز بحفاظت پار کرانے کے جھوٹے وعدے، دھوکہ دہی کا نیا طریقہ
ان رضا کار اور غیر جنگی ممالک کا فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ابھی حال ہی میں ایک سربراہی اجلاس ہوا، جس میں آبنائے ہرمز میں پائی جانے والی صورت حال میں بہتری کی بھرپور خواہش کے باوجود مجموعی فضا احتیاط پسندی کی تھی۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی
اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں اس وقت ایک محدود اور مشروط فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے۔
اس 14 روزہ فائر بندی کی مدت عالمی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات تقریباﹰ نصف شب کو پوری ہونا تھا، لیکن اس سے محض چند ہی گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں توسیع کر دی تھی، جس کے لیے امریکی صدر کے بقول ان سے درخواست پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی تھی۔
ایران جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی جہاز رانی کو معطل کر دیا تھا، جس سے اس سمندری راستے سے عالمی منڈیوں کو خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
اس کے جواب میں امریکی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی تھی اور یہ صورت حال آج تک جاری ہے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین پاکستانی کی ثالثی میں امن مذاکرات کا وہ دوسرا دور بھی اب تک شروع نہیں ہو سکا، جس کے آج بدھ کے روز تک انعقاد کی کافی امید تھی۔
ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان
آبنائے ہرمز سے متعلق فرانسیسی برطانوی موقف
پیرس میں ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس کی صدارت فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مل کر کی تھی اور ان دونوں رہنماؤں نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی تجارت اور دنیا کو توانائی کی ترسیل کے لیے اس انتہائی اہم سمندری راستے کا پہلے کی طرح معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے کھولا جانا کسی ''دیرپا اور قابل عمل تجویز‘‘ کے نتیجے میں ہی ممکن ہونا چاہیے۔
ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ
اس موضوع پر پیرس سمٹ میں جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سمیت تقریباﹰ 50 یورپی، ایشیائی، افریقی اور جنوبی امریکی ممالک کے اعلیٰ نمائندوں اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے سرکردہ عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔ ان میں سے کئی شرکاء نے اس اجلاس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے حصہ لیا تھا۔
ماہرین کی تنبیہات
امریکہ میں قائم ایک غیر حکومتی تنظیم 'آکسیلیم ورلڈ وائڈ‘ کے سربراہ اور بین الاقوامی سیاسی اور سمندری امور کے ماہر ایان رالبی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بین الاقوامی مشن کے فعال ہونے سے ''پہلے تو یہ جنگ پوری طرح بند ہونا چاہیے، لیکن جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد بھی یہ امکان کافی زیادہ ہو گا کہ تب بھی کہیں نہ کہیں کوئی نئی اور بڑی خرابی یا نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘
پاکستانی سفارت کاری میں تیزی لیکن امریکہ اور ایران میں تناؤ برقرار
ایان رالبی نے کہا، ''اس جنگ کے تینوں متحارب فریقوں (امریکہ، اسرائیل اور ایران) کی عسکری حوالے سے غیر منطقی حد تک اشتعال انگیز کارروائیاں مسلسل اتنی اچانک رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز میں اس آئندہ سمندری حفاظتی مشن کی قیادت کرتے ہوئے یورپ کو لازمی طور پر یہ جدوجہد بھی کرنا پڑے گی کہ وہ بھی اس جنگ میں کسی بھی طرح گھسیٹ نہ لیا جائے، جس کے شروع کرنے میں اس کا اپنا کوئی کردار تھا ہی نہیں۔‘‘
اسی طرح برطانیہ میں قائم میری ٹائم اے آئی کمپنی 'ونڈورڈ‘ کی تجزیہ کار اور میری ٹائم انٹیلیجنس کی ماہر مشیل ویزے بوکمان کے مطابق ایک بڑا خطرہ تو یہ بھی ہو گا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پیرس سمٹ کے انعقاد کے وقت بھی اس تنگ سمندری راستے میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی تعداد 830 سے زیادہ بنتی تھی۔
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایرانی بجلی گھر اور پُل تباہ کر دیں گے، ٹرمپ
کارنیگی یورپ نامی ادارے کے بلاگ 'اسٹریٹیجی یورپ‘ کی ایڈیٹر ان چیف اور جیو پولیٹیکل امور کی مشیر ریم ممتاز نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ محفوظ اور آزادانہ طور پر قابل استعمال گزرگاہ بنانے کے لیے یورپ پر پڑنے والا دباؤ آئندہ دنوں میں اور زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم جیسا کہ پیرس سمٹ کے شرکاء بھی متفق تھے، ''جنگ کے مکمل خاتمے سے قبل وہاں کوئی بحری مشن تعینات نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
ادارت: جاوید اختر