1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر

مقبول ملک (لیزا لوئیس، پیرس)
22 اپریل 2026

کئی ممالک پر مشتمل ایک اتحاد کے مطابق وہ ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے میں مدد کرنے پر تیار ہے۔ یہ ممالک ایران جنگ میں کسی بھی طرح شامل نہیں ہیں اور ان کی قیادت برطانیہ اور فرانس کر رہے ہیں۔

پیرس سمٹ کے شرکاء میں سے چار، دائیں سے بائیں: اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس
پیرس سمٹ کے شرکاء میں سے چار، دائیں سے بائیں: اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر فریڈرش میرستصویر: Simon Dawson/Avalon.red/IMAGO

ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے پر بھی تیار ہیں، جس کا کام خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز میں معمول کی محفوظ تجارتی جہاز رانی کی بحالی ہو گا، تاہم اس انٹرنیشنل مشن کو موجودہ ایران جنگ ختم ہونے سے پہلے اس آبنائے میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز بحفاظت پار کرانے کے جھوٹے وعدے، دھوکہ دہی کا نیا طریقہ

ان رضا کار اور غیر جنگی ممالک کا فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ابھی حال ہی میں ایک سربراہی اجلاس ہوا، جس میں آبنائے ہرمز میں پائی جانے والی صورت حال میں بہتری کی بھرپور خواہش کے باوجود مجموعی فضا احتیاط پسندی کی تھی۔

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی

اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں اس وقت ایک محدود اور مشروط فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے۔

فرانسیسی صدر ماکروں اور برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر پیرس سمٹ کی صدارت کرتے ہوئےتصویر: Tom Nicholson/AFP

اس 14 روزہ فائر بندی کی مدت عالمی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات تقریباﹰ نصف شب کو پوری ہونا تھا، لیکن اس سے محض چند ہی گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں توسیع کر دی تھی، جس کے لیے امریکی صدر کے بقول ان سے درخواست پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی تھی۔

ایران جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی جہاز رانی کو معطل کر دیا تھا، جس سے اس سمندری راستے سے عالمی منڈیوں کو خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

اس کے جواب میں امریکی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی تھی اور یہ صورت حال آج تک جاری ہے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین پاکستانی کی ثالثی میں امن مذاکرات کا وہ دوسرا دور بھی اب تک شروع نہیں ہو سکا، جس کے آج بدھ کے روز تک انعقاد کی کافی امید تھی۔ 

ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان

آبنائے ہرمز کی فضا میں نگرانی کے لیے پرواز کرتے ہوئے امریکی فوج کے اپاچی ہیلی کاپٹرتصویر: US Central Command/AFP

آبنائے ہرمز سے متعلق فرانسیسی برطانوی موقف

پیرس میں ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس کی صدارت فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مل کر کی تھی اور ان دونوں رہنماؤں نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی تجارت اور دنیا کو توانائی کی ترسیل کے لیے اس انتہائی اہم سمندری راستے کا پہلے کی طرح معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے کھولا جانا کسی ''دیرپا اور قابل عمل تجویز‘‘ کے نتیجے میں ہی ممکن ہونا چاہیے۔

ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ

اس موضوع پر پیرس سمٹ میں جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سمیت تقریباﹰ 50 یورپی، ایشیائی، افریقی اور جنوبی امریکی ممالک کے اعلیٰ نمائندوں اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے سرکردہ عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔ ان میں سے کئی شرکاء نے اس اجلاس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے حصہ لیا تھا۔

آبنائے ہرمز سے متعلق پیرس سمٹ کے دوران، دائیں سے بائیں: برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، اطالوی وزیر اعظم میلونی اور برطانوی وزیر خارجہ کوپر تصویر: Tom Nicholson/REUTERS

ماہرین کی تنبیہات

امریکہ میں قائم ایک غیر حکومتی تنظیم 'آکسیلیم ورلڈ وائڈ‘ کے سربراہ اور بین الاقوامی سیاسی اور سمندری امور کے ماہر ایان رالبی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بین الاقوامی مشن کے فعال ہونے سے ''پہلے تو یہ جنگ پوری طرح بند ہونا چاہیے، لیکن جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد بھی یہ امکان کافی زیادہ ہو گا کہ تب بھی کہیں نہ کہیں کوئی نئی اور بڑی خرابی یا نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘

پاکستانی سفارت کاری میں تیزی لیکن امریکہ اور ایران میں تناؤ برقرار

ایان رالبی نے کہا، ''اس جنگ کے تینوں متحارب فریقوں (امریکہ، اسرائیل اور ایران) کی عسکری حوالے سے غیر منطقی حد تک اشتعال انگیز کارروائیاں مسلسل اتنی اچانک رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز میں اس آئندہ سمندری حفاظتی مشن کی قیادت کرتے ہوئے یورپ کو لازمی طور پر یہ جدوجہد بھی کرنا پڑے گی کہ وہ بھی اس جنگ میں کسی بھی طرح گھسیٹ نہ لیا جائے، جس کے شروع کرنے میں اس کا اپنا کوئی کردار تھا ہی نہیں۔‘‘

اسی طرح برطانیہ میں قائم میری ٹائم اے آئی کمپنی 'ونڈورڈ‘ کی تجزیہ کار اور میری ٹائم انٹیلیجنس کی ماہر مشیل ویزے بوکمان کے مطابق ایک بڑا خطرہ تو یہ بھی ہو گا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

بحیرہ عرب میں موجود امریکی نیوی کا جنگی طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہام لنکنتصویر: U.S. Navy/Planet Pix/ZUMA/picture alliance

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پیرس سمٹ کے انعقاد کے وقت بھی اس تنگ سمندری راستے میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی تعداد 830 سے زیادہ بنتی تھی۔

آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایرانی بجلی گھر اور پُل تباہ کر دیں گے، ٹرمپ

کارنیگی یورپ نامی ادارے کے بلاگ 'اسٹریٹیجی یورپ‘ کی ایڈیٹر ان چیف اور جیو پولیٹیکل امور کی مشیر ریم ممتاز نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ محفوظ اور آزادانہ طور پر قابل استعمال گزرگاہ بنانے کے لیے یورپ پر پڑنے والا دباؤ آئندہ دنوں میں اور زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم جیسا کہ پیرس سمٹ کے شرکاء بھی متفق تھے، ''جنگ کے مکمل خاتمے سے قبل وہاں کوئی بحری مشن تعینات نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

ادارت: جاوید اختر

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

02:21

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں