یونانی مالیاتی بحران: یورو زون کی ہنگامی سمٹ پیر کو
19 جون 2015
یونان اب تک تین بڑے قرض دہندہ اداروں سے بیل آؤٹ پیکج کے طور پر اربوں یورو حاصل کر چکا ہے۔ ایتھنز حکومت کو ابھی بھی شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اسے اس مہینے کے آخر تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو قرضوں کی ایک بہت اہم قسط واپس کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یونان اپنے ذمے مالیاتی ادائیگیوں کے قابل نہ رہنے کی وجہ سے دیوالیہ ہو جائے گا۔
اس کا نتیجہ یونان کے یورو زون اور بعد میں ممکنہ طور پر یورپی یونین سے اخراج کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ یہ بات یورپی مالیاتی اور کرنسی اتحاد کے لیے بھی بہت تباہ کن ہو گی۔ اٹھائیس رکنی یورپی یونین اور اس کے یورو زون میں شامل انیس ممالک آئی ایم ایف اور یورپی مرکزی بینک کے ساتھ مل کر پوری کوشش کر رہے ہیں کہ یونانی مالیاتی بحران پر کسی طرح قابو پایا جا سکے۔
ایتھنز میں خود وزیر اعظم الیکسِس سِپراس کی حکومت کی بھی پوری کوشش ہے کہ اس کا قرض دہندہ اداروں کے ساتھ آخری وقت پر ہی سہی لیکن کوئی نہ کوئی معاہدہ طے پا جائے اور یونان دیوالیہ ہونے سے بچ جائے۔ لیکن سِپراس یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی تجویز کردہ مالیاتی اصلاحات اور قرضوں کی شرائط پر پوری طرح عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور اسی وجہ سے یہ بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔
اٹھارہ جون کی رات لکسمبرگ میں یورو گروپ کے رکن ملکوں کا یونان کے ساتھ کوئی ایسا اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے بعد ایتھنز کو جامع اصلاحات کی یقین دہانی کے بدلے نئی رقوم کی پیشکش کی جاتی۔ تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ آج انیس جون جمعے کے روز یونان کے پاس آئی ایم ایف کو 1.6 ارب یورو کی ادائیگی کے لیے صرف گیارہ دن باقی بچے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی طرف سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس بات کی کوئی امید نہیں کہ یونان جون کے آخر تک قرضے کی قسط بھی ادا نہ کرے اور دیوالیہ ہونے سے بھی محفوظ رہے۔
یہ مالیاتی بے یقینی یورپی یونین، یورپی مشترکہ کرنسی یورو اور خود یونان کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ یونانی مرکزی بینک کہہ چکا ہے کہ ایتھنز کے یورو سے ممکنہ اخراج کے بہت برے نتائج نکلیں گے۔ یونانی عوام بھی تشویش کا شکار ہیں اور انہوں نے اسی ہفتے صرف پیر سے لے کر بدھ کے دن تک ملکی بینکوں میں جمع اپنی بچتی رقوم میں سے مزید دو بلین یورو نکال لیے۔
ان حالات میں یورو گروپ کے وزرائے خزانہ نے اپنے کل رات کے مذاکرات ناکام رہنے کے بعد فیصلہ یہ کیا کہ اب اس بحرانی صورت حال کا کوئی حل شاید اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے یورو زون کے ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت کی ایک ہنگامی کانفرنس اب پیر کی شام ہو گی۔
لکسمبرگ منعقدہ اجلاس کے بعد یورو گروپ کے سربراہ جیرون ڈائسل بلوم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ افسوس کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ یونان کے ساتھ قرضوں سے متعلق کوئی معاہدہ ابھی تک ہوتا نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں اگر کوئی پیش رفت ہوئی بھی، تو وہ انتہائی معمولی تھی۔
اسی دوران یورپی مرکزی بینک کی طرف سے بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ بائیس جون پیر کے روز یونانی تجارتی بینک معمول کے کاروبار کے لیے کھلیں گے بھی یا نہیں۔
ایسے میں یونان کے دیوالیہ ہو جانے یا نہ ہونے سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے آخری امیدیں پیر کی شام ہونے والی یورو گروپ کی ہنگامی سربراہ کانفرنس سے وابستہ کی جا رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کانفرنس میں وزیر اعظم سِپراس مصلحت پسندی کا راستہ اپناتے ہیں یا پھر یونان کے دیوالیہ ہو جانے کا۔