یونان: اصلاحات کا پیکج منظور، ایک بڑی رکاوٹ دور
23 جولائی 2015
شدید بحث و مباحثے کے بعد جمعرات کو علی الصبح 230 ارکان نے اس اصلاحاتی پیکج کے حق میں جبکہ 63 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ ان اصلاحات کی مخالفت کرنے والوں میں حکمران جماعت سیریزا پارٹی کے بھی 31 ارکان شامل ہیں۔ پانچ ارکان نے اپنا حق رائے دہی محفوظ رکھا۔
تین سو رُکنی پارلیمان میں اس اصلاحاتی پیکج پر بحث بدھ کی صبح کو شروع ہوئی تھی اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھی جاری رہی۔ حتمی رائے شماری عمل میں آنے تک جمعرات کا دن شروع ہو چکا تھا اور صبح کے چار بجج رہے تھے۔ اس بحث کے دوران وزیر اعظم الیکسس سِپراس نے اراکینِ پارلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس پیکج کی منظوری کے بعد یونان کو چھیاسی ارب یورو کی امداد مل سکتی ہے، جس کے بعد اگلے تین برسوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی ضمانت مل جائے گی۔ سِپراس نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد یونان پر لدے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اِس کی واپس ادائیگی کی شرائط میں نرمی پر بھی بات چیت شروع ہو سکے گی۔
منظور کیے جانے والے پیکج میں قرضے فراہم کرنے والے اداروں کے مطالبات پر کی جانے والی کئی اصلاحات بھی شامل ہیں۔ اس منظوری کے بعد اب یونانی حکومت کے ساتھ اربوں مالیت کے تیسرے امدادی پیکج پر بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔
الیکسس سِپراس نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بچتی منصوبوں کے تناظر میں انہیں انتہائی مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں اور ایک مفاہمتی حل قبول کرنا پڑا ہے۔ سِپراس نے کہا کہ وہ ایسا نہ کرتے تو یا تو یونان کو یورو زون سے خارج کر دیا جاتا یا پھر یہ ملک مالی اعتبار سے دیوالیہ ہو جاتا۔
اس بحث سے پہلے پارلیمان کے باہر تقریباً دَس ہزار افراد نے مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ اس پیکج اور اس میں تجویز کی گئی اُن اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جن کا مقصد عدلیہ اور بینکوں کے سیکٹر میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کروانا ہے۔ یونانی عدالتوں میں مالیاتی نوعیت کے بے شمار کیس برسوں سے لٹکے ہوئے ہیں تاہم یونانی وکلاء کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں ان کیسوں کی تیز رفتاری کے ساتھ سماعت کا الٹا اثر بھی برآمد ہو سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کی کوشش ہے کہ یونان کے ساتھ تیسرے امدادی پیکج کے بارے میں مذاکرات کو وسط اگست تک کسی حتمی نتیجے تک پہنچا دیا جائے۔ یونان کے حوالے سے اگلی اہم تاریخ بیس اگست ہے، جب یونان کو مرکزی یورپی بینک ای سی بی کو 3.2 ارب یورو کی اگلی قسط ادا کرنی ہے۔