1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یونان اور مقدونیہ کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط

17 جون 2018

یونان اور مقدونیہ نے اتوار کے روز اس تاریخی عبوری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت بلقان خطے کی یہ چھوٹی سی ریاست اپنا نام تبدیل کر کے جمہوریہ شمالی مقدونیہ رکھ لے گی۔

Griechenland - Die beiden Außenminister Nikos Kotzias und Nikola Dimitrov vor Alexis Tsipras und Zozan Zaev
تصویر: Reuters/A. Konstantinidis

یونان اور مقدونیہ کے درمیان نام کا یہ تنازعہ سن 1991ء سے چلا آ رہا ہے اور اسی تناظر میں یونان نے مقدونیہ کی یورپی یونین اور نیٹو میں رکنیت بھی بلاک کر رکھی ہے۔ اتوار کے روز اس معاہدے کے بعد اب اسکوپے حکومت کے لیے یورپی یونین اور نیٹو کی رکنیت کے حوالے سے راہ ہم وار ہو گئی ہے۔

یونان کے ساتھ ملک کے نام کی ڈیل قبول نہیں، ایوانوف

یورپی ملک مقدونیہ کا نام اب جمہوریہ شمالی مقدونیہ ہو گا

مقدونیہ نام کا آخر جھگڑا کیا ہے؟

یونان اور مقدونیہ کے وزرائے خارجہ نے سابقہ یوگوسلاویہ سے آزاد ہونے والی جمہوریہ مقدونیہ کے نام کو جمہوریہ شمالی مقدونیہ کرنے سے متعلق عبوری معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے حوالے سے دونوں ممالک میں مظاہرے بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط مقدونیہ، یونان اور البانیہ کی سرحد پر واقع پریسپیس کی جھیل کے مقام کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے حکام نے بھی معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں شرکت کی۔

اس معاہدے کو تاہم ابھی دونوں ممالک کی پارلیمان سے توثیق کے علاوہ مقدونیہ میں ریفرنڈم کے انعقاد کی بھی ضرورت ہے۔ مبصرین کے مطابق معاہدے پر دستخطوں کے باوجود اب بھی اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات موجود ہیں، کیوں کہ یونانی عوام اس معاہدے کے خاصے خلاف ہیں جب کہ دوسری جانب مقدونیہ کے صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس نے اس معاہدے کے حوالے سے کہا، ’’ہم پر ایک تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ یہ ڈیل ہوا میں نہیں کر دی گئی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس حوالے سے تحفظات دور کر لیں گے۔‘‘

سپراس نے کہا کہ جب انہوں نے مقدونیہ کے وزیراعظم زوران زائف کو خوش آمدید کہا تو تقریب میں موجود مہمانوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

یونانی وزیراعظم سپراس نے اس معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں کہا کہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک جرات  مندانہ، تاریخی اور ضروری قدم ہے۔ اس موقع پر مقدونیہ کے وزیراعظم زوران زائف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کے روز سپراس اپوزیشن جماعت کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک تو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئے، تاہم عوامی سطح پر اس معاہدے کے خلاف جذبات خاصے مضبوط ہیں۔ ہفتے کے روز ایک عوامی جائزے میں کہا گیا تھا کہ قریب ستر فیصد یونانی عوام اس معاہدے کے خلاف ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مقدونیہ کا نام تبدیل ہونے پر یونان اس ریاست کی یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کے حوالے سے تحفظات ختم کر دے گا۔

ع ت / ع ب

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں