1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یونان: بات بنائے نہیں بن رہی

عدنان اسحاق21 جون 2015

یونان کے مالیاتی مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور یورپی رہنما اس کے حل کے لیے کل ایک مرتبہ پھر ہنگامی بنیادوں پر مل رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایتھنز حکومت اپنے رویے میں لچک لانے پر تیار ہے۔

تصویر: Reuters/Y. Behrakis

یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس نے اتوار کے روز جرمنی، فرانس اور یورپی کمیشن کے رہمناؤں سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔ ان کی اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح یونان کو قرض کی فراہمی کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آنے والے تعطّل کو ختم کیا جا سکے۔

یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ یونانی حکومت سے قرضے کے بدلے میں مزید اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ سپراس حکومت عوامی شعبے میں کسی بھی قسم کی کٹوتی اور پینشن میں کمی کرنے پر راضی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں سپراس حکومت نے کہا ہے کہ وہ امدادی پیکج کی اگلی قسط، جو 7.2 ارب یورو بنتی ہے، کے لیے سمجھوتے پر راضی ہے۔

تاہم برسلز میں ہنگامی اجلاس سے ایک روز قبل تک یہ غیر واضح ہے کہ یونانی وزیراعظم کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرنے پر راضی ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم سپراس کی جماعت سیریزا نے اعلان کیا ہے کہ مزید کٹوتیوں اور نئے ٹیکسوں کے مطالبے کے خلاف ایتھنز کی سڑکوں پر کل پیر کے روز مظاہرہ کیا جائے گا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر بھی اپنے ساتھیوں کی جانب سے دباؤ بڑھ گیا ہےتصویر: picture-alliance/dpa/W. Kumm

تاہم دوسری جانب جرمنی میں بھی معاملات کافی حد تک سنجیدہ ہو گئے ہیں۔ یونان کے لیے اس امدادی پیکج میں سب سے زیادہ حصہ جرمنی ہی کا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر بھی اپنے ساتھیوں کی جانب سے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ لوگ چانسلر میرکل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونان کے ساتھ مزید کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے، چاہے اس کا نتیجہ اس ملک کے یورو زون سے اخراج کی صورت میں ہی کیوں نہ نکلے۔

یونان کو آئی ایم ایف کی قسط چکانے کے لیے فوری طور پر1.6 ارب یورو کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اس کے پاس جون کے آخر تک کا وقت ہی ہے۔ اس صورت میں جب اب وقت کم رہ گیا ہے فریقین ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کر رہے ہیں کہ وہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوششیں کریں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں