یونان میں تین ہفتوں بعد بینک کھُل گئے
20 جولائی 2015
قرض دہندگان کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج کے لیے درکار ضروری اصلاحات پر مذاکرات شروع ہونے کے بعد یونانی حکومت کے اس فیصلے کو اقتصادی صورتحال معمول کی طرف آنے کی پہلی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بینکوں سے نکلوائی جانے والی رقم کی حد برقرار رکھی گئی ہے اور بذریعہ آن لائن رقوم کی بیرون ملک ترسیل پر پابندی بھی فی الحال ختم نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ ملک کی اسٹاک مارکیٹ بھی تاحکم ثانی بند رہے گی۔ اصلاحاتی پیکج میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے پر جو اتفاق کیا گیا تھا، اس کا بھی اطلاق کر دیا گیا ہے اور اس طرح ملک میں خوراک اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 23 فیصد کر دی گئی ہے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار 19 جولائی کو یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ نئے بیل آؤٹ پیکج پر جلد از جلد مذاکرات مکمل کیے جائیں گے۔ مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اس بیل آؤٹ پیکج کا حجم 86 بلین یورو متوقع ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں یونان کے دیوالیہ ہونے اور نتیجتاﹰ یورو زون سے اخراج کے خطرات کے تناظر میں بینکوں کی بندش کو بحران کی واضح ترین علامت قرار دیا جا رہا تھا۔ بینکوں کو کھولنے کا یہ فیصلہ یونانی وزیراعظم الیکسِس سپراس کی طرف سے بیل آؤٹ کے معاملے پر سخت شرائط قبول کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے تاہم ان کی اپنی سیاسی جماعت کے اندر اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں جس سے ان کی حکومت غیر مستحکم بھی ہو سکتی ہے۔
حکومتی اہلکاروں کے مطابق ایسی صورت میں یونان میں رواں برس ستمبر یا اکتوبر میں قبل از وقت انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ یونانی پارلیمان نے جمعرات 16 جولائی کو بیل آؤٹ پیکج کی توثیق کر دی تھی مگر اس مقصد کے لیے وزیراعظم سپراس کو اپوزیشن کے ووٹوں کا بھی سہارا لینا پڑا کیونکہ ان کی اپنی سیریزا پارٹی کے 39 ارکان نے اس معاملے پر حکومت کو سپورٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بینک کھولے جانے کے فیصلے پر یونانی عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق بینکوں کی طرف سے بھی امید ظاہر کی گئی ہے کہ تین ہفتوں کی بندش کے سبب بینک سروسز میں معمولی مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم یہ جلد ہی نارمل ہو جائیں گی۔