یونان میں ہڑتال: تشدد اور کشیدگی بڑھتی ہوئی
18 ستمبر 2013
یونان میں اس دو روزہ ہڑتال کے دوسرے روز آج ملک بھر میں کاروبار زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ گزشتہ روز، پیر کو یونان کے ہسپتالوں کے اہلکاروں سمیت وکلاء نے بھی یونان کی سول سرونٹس یونین ADEDY کے ایماء پر ہونے والی ہڑتال میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ایتھنز حکومت کی آسامیوں کی دوبارہ بھرتی کی اسکیم کے پیچھے یونان کو مالیاتی امدادی پیکج دینے والے دو اہم اداروں یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط ہیں اور اس پر عمل کیے بغیر مالیاتی پیکج تک رسائی مشکل رہے گی۔ دونوں اداروں نے ایتھنز حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک کے تمام شعبوں کی نجکاری کرے اور بعد میں نجی شعبہ سرکاری ملازمین کی حسب ضرورت دوبارہ بھرتی کرے۔ اس طرح تمام نوکریوں کا دارومدار ان شعبوں کو پرائیویٹائز کرنے والوں کے فیصلوں پر ہوگا کہ وہ کس کو نوکری دیتے ہیں اور کس کس کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔
یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ جب تک ایتھنز حکومت اس جاب اسکیم کو متعارف نہیں کراتی تب تک وہ بیل آؤٹ پیکیج کے تحت ملنے والے سرمائے کو ہاتھ نہیں لگا سکتی۔ گزشہ روز سے شروع ہونے والے مظاہروں میں شامل مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز آٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا، ’ No to layoffs ‘ یعنی نوکریوں کے خاتمے کی اسکیم نامنظور۔
مظاہرے میں شامل ایک 39 سالہ سول سرونٹ کرسٹوس واگیناس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا،" وہ تمام مستقل نوکریوں کو ختم کر دیں گے اور سرکاری پراپرٹی میں سے جو چاہیں گے فروخت کر دیں گے۔ چاہے وہ اسکول ہوں، ہسپتال یا انشورنس فنڈز۔ تمام شعبے پرائیوٹ سیکٹر کے حوالے کر دیے جائیں گے" ۔
آج کا مظاہرہ غیر معمولی کشیدہ ماحول میں تھا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے آغاز سے چند گھنٹوں قبل بائیں بازو کے ایک آرٹسٹ کو مبینہ طور پر یونان کی نیو نازیوں کی ایک سیاسی جماعت ’گولڈن ڈان‘ کے ایک رکن نے قتل کر دیا۔ 34 سالہ ہپ ہاپ سنگر پاولوس فیساس کو بُدھ کی صبح ایتھنز کے مغربی ضلع کیراتسینی میں ایک کیفے کے سامنے بظاہر گھات لگا کر کیے جانے والے ایک حملے میں زدو کوب کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
حکومتی ترجمان سیموس کیڈیکوگلو نے اس واقعے کا ذمہ دار سیاسی جماعت ’گولڈن ڈان‘ کو ٹھہراتے ہوئے اس گروپ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ حکام کی طرف سے دیگر سیاسی پارٹیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں تشدد اور کشیدگی کے شیطانی دائرے کے پھیلاؤ کے عمل میں رکاوٹ بنیں۔ دریں اثناء پولیس نے گولڈن ڈان پارٹی کے ایک 45 سالہ مشتبہ کارکن کو وقوعہ سے ہی گرفتار کر لیا ہے۔ اس شخص نے ہپ ہاپ سنگر پاولوس فیساس کو قتل کرنے کے جرم اور ایک خاص سیاسی جماعت کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اقرار کیا ہے۔ اُدھر گولڈن ڈان نے فوراً ہی قتل کے اس واقعے کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔ چند روز قبل مشتبہ نیو نازیوں نے ایک اشتراکی گروپ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔