یونان کا مستقبل، فیصلہ کُن یورپی سربراہی اجلاس اتوار کو
8 جولائی 2015
یونان کی بائیں بازو کی حکومت کو قرض دہندہ اداروں اور یورپی ممالک کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ایسی قابل قبول اور ٹھوس بچتی اصلاحات کی تجاویز پیش کرے، جو یونان کو شدید مالیاتی بحران سے باہر لانے میں معاون ہوں۔
گزشتہ روز یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک کے مطابق، ’کڑوی حقیقت یہی ہے کہ ہمارے پاس صرف پانچ روز بچے ہیں۔ میں اب تک ڈیڈلائن دینے سے بچتا رہا ہوں، مگر آج شب مجھے واضح اور بہ آواز بلند کہنا ہے کہ یہ آخری ڈیڈلائن اس ہفتے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔‘
یونانی وزیراعظم سپراس کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ اصلاحاتی تجاویز پیش کریں، تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سِپراس حکومت جمعرات کو یہ تجاویز پیش کر دے گی، تاکہ وہ جرمن پارلیمان سے اجازت طلب کر سکیں اور نئے امدادی پروگرام کے حوالے سے بات چیت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں حل کے حوالے سے حد سے زیادہ پرامید نہیں۔
منگل کے روز برسلز میں یورپی یونین کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں یورو زون کے 19 رکن ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اتوار کے روز یورپی یونین کی تمام 28 رکن ریاستوں کے رہنما ملیں گے، جس میں یونان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ ہنگامی اجلاس یونان میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے اس ریفرنڈم کے بعد منعقد ہوا، جس میں یونانی عوام کی اکثریت نے بین الاقوامی بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کو مسترد کر دیا۔
فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہا ہے کہ یورپی مرکزی بینک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یونانی بینکوں کے پاس کم از کم اتنا سرمایہ ضرور رہے کہ وہ اتوار تک چلتے رہیں۔
دوسری جانب یونان میں مالیاتی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں بینک گزشتہ دو ہفتوں سے بند پڑے ہیں اور کیش مشینوں سے پیسے نکالنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی ایک شخص ایک دن میں کیش مشین سے صرف ساٹھ یورو ہی نکلوا سکتا ہے۔
منگل کے روز یورپی سربراہی اجلاس کے اختتام پر الیکسس سپراس پرعزم دکھائی دیے، حالاں کہ قرض دہندہ اداروں کی جانب سے ان سے جن سخت بچتی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے، ان کا بوجھ یونانی عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
اجلاس کے بعد سپراس کا کہنا تھا، ’بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں ہوئی ہے۔ یہ عمل انتہائی تیز ہو گا اور اگلے چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا جب کہ اختتام ہفتہ تک اسے مکمل کر لیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہاکہ وہ سماجی اعتبار سے انصاف پر مبنی معاہدہ طے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس سے یونان اس بحران سے نکل سکے گا اور ایک مرتبہ پھر ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے گا۔ بدھ کے روز سِپراس یورپی پارلیمان سے خطاب کر رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹُسک خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اس سلسلے میں کوئی حل سامنے نہ آیا، تو دنیا بھر میں یورپی یونین کی سُبکی ہو گی اور گزشتہ چھ دہائیوں سے کام کرنے والے اس بلاک کو اپنی تاریخ کے پیچیدہ ترین لمحے کا سامنا ہو سکتا ہے۔