یونان کو بیل آؤٹ پیکج کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری: ڈوئچے ویلے کا تبصرہ
27 نومبر 2012
یوروزون کے وزرائے خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعلیٰ اہلکاروں کا گزشتہ شب برسلز میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس تقریبا بارہ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے اختتام پر یورپی مرکزی بینک کے سربراہ ماریو دراگی نے بتایا کہ آئندہ ماہ یونان کو بیل آؤٹ پیکج کی اگلی قسط جاری کر دی جائے گی۔
یورو زون کے وزرائے خزانہ اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کو غالبا ساری رات جاگتے رہنا اور یونان کو بحران سے نکالنے کے لیے کسی فیصلے تک پہنچنا اچھا لگا۔ ورنہ وہ گزشتہ تین ہفتوں کے اندر تیسری مرتبہ برسلز میں شب بیداری کیوں کرتے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس ضمن میں کوئی حقیقی فیصلہ کیا گیا ہے؟ نہیں، کیونکہ گزشتہ تین اجلاسوں میں ہونے والی بات چیت اور اس مرتبہ کے مذاکرات میں کچھ بھی نہیں بدلا۔
حقائق کافی واضح ہیں۔ یونان 2016 ء تک کساد بازاری میں گھرا رہے گا۔ اتنے زیادہ قرضےاور اصلاحات کی سست روی کے سبب اس کی معیشت کو 30 بلین یورو کی کمی پوری کرنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا رہے گا۔ حالانکہ ایتھنز حکومت کے لیے 230 ارب یورو کے بچتی پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے اس کے باوجود اُسے 30 ارب یورو مزید درکار ہوں گے۔ سوچنا یہ ہے کہ اگر یونان کو دیوالیہ پن سے بچنا ہے تو یہ رقم کہاں سے آئے گی۔ اس کی ترکیب اور طریقوں پر کئی ہفتوں سے بات چیت ہو رہی ہے اور جمع تفریق جاری ہے تاہم اس کا جواب ایک ہی نکلا ہے اور وہ یہ کہ یورو زون کے اقتصادی اعتبار سے اس تباہ حال ملک کو اور زیادہ رقوم کی ضرورت ہے اور یہ رقوم فراہم کرنے والے یورپی ممالک مزید امداد کے وعدے کی صورت میں مزید بڑے خطرات مول لینے سے گھبرا رہے ہیں۔
گزشتہ شب کی ایک طویل ملاقات کے بعد منگل کی صبح اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا کہ ایتھنز کو بیل آؤٹ پیکج کی آئندہ قسط جاری کر دی جائے گی۔ یونان کو اپنے ہاں ریاستی قرضوں کے بحران پر قابو پانے کے لیے 2020ء تک کی نئی ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے۔ اس دوران یونانی بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
بہت سے ماہرین کی رائے میں یونان کو درست ٹریک پر رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایتھنز کے لیے قرضے کی جو مد منظور کر لی گئی ہے اُس کا ایک حصہ قرض دہندگان ریاستوں کے ہاتھوں اُس تک پہنچایا جائے۔
یورو کے تحفظ کے لیے سرگرم یورپی رہنماؤں کو برسلز میں یونان سے متعلق پالیسی وضع کرتے ہوئے یورو زون کے شہریوں کو بیوقوف نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ دیوالیہ پن کے شکار ملک یونان کو بچانے کا عمل بہت مہنگا ہوگا۔ یہ بات کہ یونان کبھی اپنے قرضوں کا بوجھ اتارنے اور اسے واپس ادا کرنے کے قابل ہوگا، کسی خوش فہمی سے کم نہیں۔
اس سال موسم گرما میں یورپی مرکزی بینک کے صدر، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور یورو زون میں شامل دیگر ریاستوں کے حکومتی سربراہان نے یونان کو ہر قیمت پر یورو زون میں شامل رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یہ قیمت حقیقی معنوں میں بہت بھاری ہے جسے بہت جلد ادا کرنا پڑے گا۔
B.Riegert/J.Brunsmann/Km.Ng