’یونان کے بیل آؤٹ پیکج میں مزید توسیع نہیں ہو گی‘
27 جون 2015
یورو زون کے وزرا کا یہ فیصلہ یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس کی طرف سے جمعے کو دیوالیے سے بچنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئی شرائط کو ماننے کے بارے میں ریفرنڈم کروانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہفتے کو برسلز میں یوروزون کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں اس یورو گروپ کے چیف ولندیزی وزیر خزانہ ژرُون ڈیشل بلُوم نے کہا، ’’ یورو زون کے وزراء اب یونان کو شامل کیے بغیر دوبارہ مذاکرات کریں گے اور اس فیصلے کے نتائج پر غور و خوص کیا جائے گا۔ اس بارے میں تفصیلی بات چیت ہوگی کہ یورو زون کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مزید کون کون سے اقدامات کیے جانا چاہییں‘‘۔
یورو زون کے اس فیصلے سے دیوالہ کے دہانے پر کھڑے ملک یونان کی ساکھ کو بہت بڑا دھچکہ پہنچا ہے اور ایتھنز حکومت عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے سامنے عدم تعمیل کے سبب جواب دہ ہو گیا ہے۔
ہفتے کو برسلز منعقدہ اجلاس میں یونانی وزیر مالیات یانیس واروفاکیس نے یورو زون کے وزراء سے اپیل کی تھی کہ یونان کے بیل آؤٹ کی میعاد میں چند ہفتوں کی توسیع کر دی جائے تاکہ ایتھنز حکومت ملک میں ریفرنڈم کروا سکے۔ اُن کی کوشش تھی کہ یورو زون کسی حد تک اپنے رویے میں لچک کا مظاہرہ کر دے۔
اس موقع پر یانیس واروفاکیس نے اپنے بیان میں کہا، ’’ ہم ایک ذمہ دار حکومت کی حیثیت سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ریفرنڈم میں ہمارے عوام جو بھی فیصلہ کریں گے ہم اگلے روز ہی اُس پر عملدرآمد کرتے ہوئے قرض دہندگان، شراکت داروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ایک تیز رفتار معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
یونان کی قرض کی ادائیگی میں ناکامی کا مطلب دیوالیہ پن ہو گا جس کے باعث اُسے مشترکہ کرنسی یا یورو زون سے خارج کر دیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس کا نتیجہ یورپی اتحاد سے اخراج پر بھی ہو سکتا ہے۔
گزشتہ دس روز کے دوران آج ہفتے کو یورو زون کی وزراء کی یونان کے مالیاتی بحران کے سلسلے میں پانچویں میٹنگ ہوئی۔ یونان کے لیے قرضوں کی ادائیگی کے الٹی میٹم کے ضمن میں آج کے اجلاس کو آخری موقع سمجھا جا رہا تھا۔
برسلز سے ملنے والی اطلاعات سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ یورو زون کے وزراء یونان کو اپنا حتمی فیصلہ سنانے کے لیے نہایت سخت الفاظ پر مشتمل مشترکہ بیان تشکیل دے رہے ہیں۔ یورو زون کے مشترکہ اعلان کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ یونانی وفد کی شمولیت کے بغیر یوروزون کے وزراء دوبارہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یونان کے ممکنہ دیوالیہ کے بارے میں بحث کریں گے۔