یونان کے لیے بیل آؤٹ، فیصلہ مؤخر
15 فروری 2012
یورو زون نے اب کہا ہے کہ یونانی وزیر خزانہ بدھ کو اپنے ملکی بجٹ میں مزید 325 ملین یورو کی کٹوتی کے ساتھ برسلز پہنچیں۔ انہیں اپنے سیاستدانوں کی جانب سے بچتی پروگرام کے نفاذ کے تحریری وعدے ساتھ لانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ یونان کو یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی جانب سے نئی مالی امداد نہ ملی تو وہ دیوالیہ ہو سکتا ہے۔
اقتصادی امور کے ماہرین کے مطابق آخری وقت میں اجلاس کا مؤخر کیا جانا اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یورو زون یونان کی جانب سے مزید یقین دہانیاں چاہتا ہے۔ بدھ کے روز کے اجلاس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اس میں یونان کے لیے امداد منظور کر دی جائے گی۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا تھا کہ یونانی پارلیمنٹ کی جانب سے بچتی منصوبے کا بل منظور کر لیا گیا تھا، باوجود اس کے کہ یونان میں اس فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے بھی جاری ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یونان کو ابھی انتظار کرنا ہوگا۔
معلوم یہی ہوتا ہے کہ یورپی یونین اور یونان کے درمیان اختلافات کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں۔ حال ہی میں واشنگٹن کے دورے پر گئے لگسمبرگ کے وزیر خزانہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یورو زون یونان کے بغیر بھی چل سکتا ہے۔ اب یونان کے ایک وزیر نے کہا ہے: ’’یونان نے وہ سب کچھ کیا ہے جو اس کو کرنا چاہیے تھا، اور اب عوام مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
جرمن حکومت نے یونانی پارلیمنٹ کی جانب سے بچتی منصوبے کی منظوری کا خیر مقدم کیا تھا لیکن یہ بھی کہا تھا کہ جرمنی چاہتا ہے کہ یونان اس منصوبے پر عمل درآمد بھی کرے۔ یورپی ممالک کی یہ بھی خواہش ہے کہ موسم بہار میں ہونے والے یونانی انتخابات کے بعد جو کوئی بھی حکومت بنائے وہ اس منصوبے پر عمل جاری رکھے۔
رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے
ادارت: ندیم گِل