1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائنی بحران اور جرمن وزیر خارجہ کا دورہ

عابد حسین13 مئی 2014

یورپی یونین اور یورپی تنظیم OSCE نے یوکرائنی بحران کے حل کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دونوں ادارے مشرقی یوکرائن کے روس نواز باغیوں اور کییف کی عبوری حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل فوری طور پر چاہتے ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر اور عبوری وزیراعظم آرسینی یاٹسینی یُکتصویر: Reuters

یوکرائن کے اندرونی خلفشار کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر آج منگل کی صبح یوکرائنی دارالحکومت کییف پہنچے۔ جرمن وزیر خارجہ کییف میں عبوری وزیراعظم آرسینی یاٹسینی یُک کے ساتھ ملاقات کے بعد بحیرہ اسود کے شہر اوڈیسا کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ عبوری وزیراعظم یاٹسینی یُک کے ہمراہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یوکرائن میں قومی ڈائیلاگ کے عمل کو شروع کرنے کی حمایت کی۔ جرمن وزیر خارجہ نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ مشرقی یوکرائن کے کئی علاقوں میں صورت حال کشیدہ اور خطرناک ضرور ہے لیکن اِس وقت ترجیح پچیس مئی کے صدارتی الیکشن ہیں۔

یورپی یونین کے ہرمن فان رومپوئے بھی یوکرائن کا دورہ کر چکے ہیںتصویر: Reuters

اشٹائن مائر اپنے اِس دورے کے دوران یوکرائنی بحران کے حل کے حوالے سے یورپی سکیورٹی و تعاون کی تنظیم کے پیش کردہ روڈ میپ پر عمل کرنے کے لیے فریقین کو قائل کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ اشٹائن مائر اس کوشش میں بھی ہیں کہ مشرقی یوکرائن کے باغیوں کے قبضے میں آئی سرکاری عمارتوں کو جلد از جلد خالی کروایا جائے تاکہ 25 مئی کے صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ کے انتظامات کو کوئی شکل دی جا سکے۔

کییف حکومت نے اپنے نیشنل ڈائیلاگ کے لیے مجوزہ گول میز کانفرنس کی میزبانی میونخ سکیورٹی کانفرنس کے وولفگانگ ایشینگر کو تفویض کی ہے۔ اس کانفرنس کے لیے حتمی تاریخ طے نہیں لیکن بعض ذرائع کے مطابق یہ بدھ 13 مئی کو شروع ہو سکتی ہے۔ گول میز کانفرنس میں مشرقی یوکرائن سے کون شریک ہو گا، یہ بھی ابھی واضح نہیں لیکن عبوری صدر اولیکزانڈر تُرچینوف کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قومی ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنائے جا سکتے۔ ترچینوف کے نزدیک دہشت گرد مشرقی یوکرائن کے باغی ہو سکتے ہیں۔

ڈونیٹسک باغیوں کے رہنما ڈینس پشچلنتصویر: Reuters

اسی طرح یورپی سکیورٹی تنظیم OSCE روس اور یوکرائن کے درمیان پیدا سرحدی کشیدگی کے لیے ممکنہ روڈ میپ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ روس بھی OSCE کا رکن ہے اور وہ بھی مشرقی یوکرائن اور کییف حکومت کے درمیان مذاکرات کو اہم قرار دے رہا ہے۔ یورپی سکیورٹی و تعاون کی تنظیم کی جانب سے روڈ میپ پیر کے روز سوئٹزرلینڈ کے صدر ڈیڈر بُرک ہالٹر نے پبش کیا تھا۔ اس منصوبے میں فریقین سے کہا گیا کہ تشدد کو چھوڑ کر معافی و صُلح کے راستے کو اپنایا جائے۔ روس نے اس روڈ میپ کا خیر مقدم کیا ہے۔

آج برسلز میں یورپی کمیشن یوکرائنی وزیراعظم آرسینی یاٹسینی یُک کے ساتھ بھی بحران کے خاتمے اور حل کے موضوع پر گفتگو کرنے والا ہے۔ یاٹسینی یُک بھی مشرقی یوکرائن کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے کسی تاریخ کا نہیں بتایا ہے۔ آج روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ کییف کی عبوری حکومت مشرقی علاقے کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب ڈونیٹسک کے لیے کییف حکومت کے نامزد گورنر سیرہی ٹاروٹا (Serhiy Taruta) نے یوکرائنی پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے کہ ڈونیٹسک کو یوکرائن کا حصہ رکھتے ہوئے مزید اختیارات دینے کے لیے پندرہ جون کو ریفرنڈم کروانے کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔

اتوار کے ریفرنڈم کے بعد پیر 12 مئی کو مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے یوکرائن سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ آزادی کا اعلان کرنے والے وہ دونوں خطے ہیں جہاں روس نواز علیحدگی پسندوں نے خود مختاری کے ریفرنڈم کا انعقاد کروایا تھا۔ آزادی کے اعلان کے باوجود روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ کریمیا کی طرز پر ان مشرقی یوکرائنی علاقوں کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں