’یوکرائن اور یورپی یونین سنبھل کر چلیں‘، تبصرہ
17 ستمبر 2014
ایک سال پہلے بھی یوکرائن اور یورپی یونین کے درمیان شراکت کا معاہدہ دستخطوں کے مرحلے تک پہنچ چکا تھا تاہم بالکل آخری لمحے پر اُس وقت کے یوکرائنی صدر وکٹور یانُوکووِچ اس معاہدے سے پیچھے ہَٹ گئے تھے۔ تب ماسکو حکومت نے ایک جانب اُنہیں اس معاہدے پر دستخط کرنے کی صورت میں سنگین اقتصادی نتائج کی دھمکی دی تھی اور دوسری جانب روس کی طرف جھکاؤ کی صورت میں اس مقروض ملک کے لیے ایک بڑے قرضے کی ترغیب دی تھی۔ یانُوکووِچ نے ایسا ہی کیا تاہم اُن کے عوام مشتعل ہو گئے اور بالآخر کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد اُنہیں اپنے عہدے سے محروم ہونا پڑا۔
اُن کے جانشین پیٹرو پوروشینکو نے یورپی یونین کے قریب آنے کے عمل کو آگے بڑھایا ہے تاہم اُنہیں بھی ماسکو کے ساتھ ساتھ ملک میں اندرونی طور پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ روس کو مطمئن کرنے کے لیے پوروشینکو نے یورپی یونین سے درخواست کی ہے کہ فری ٹریڈ زون کو، جو شراکت کے معاہدے کا ایک حصہ ہے، 2016ء تک کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔ وہ امید کر رہے ہیں کہ تب تک روس کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والا تناؤ کچھ کم ہو جائے گا۔
دوسری طرف فری ٹریڈ زون کو مؤخر کرنے کے اسی اقدام کے باعث یوکرائن کے عوام پوروشینکو سے ناراض ہیں اور کسی بھی وقت سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یوکرائن کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ اقتصادی طور پر بدحالی کے شکار اس ملک کو روس جب چاہے، گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ پھر کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن موقع ملنے پر یوکرائن کے مزید علاقے کو بھی اپنے قبضے میں لینے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
یورپی یونین کے قریب آنے کے لیے یوکرائن کو ابھی اصلاحات کے ایک صبر آزما مرحلے سے گزرنا ہو گا۔ ایسے میں یوکرائن کے عوام تک یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا ہو گا لیکن اُن کے پاس بھی اس انتظار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ روس کی طرف جھکاؤ کے برعکس یورپی یونین میں اُنہیں دیر سے ہی سہی ، اچھے مستقبل کی امید نظر آتی ہے۔
دوسری جانب پوٹن کے ہوتے ہوئے یوکرائن کے یورپی یونین کے قریب آنے کا عمل تکمیل کو پہنچتا نظر نہیں آتا۔ اگرچہ کسی ملک کو یقیناً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ یوکرائن کو کسی ایک یا کسی دوسرے اتحاد کا حصہ بننے کے لیے مجبور کرے تاہم یوکرائن کے معاملے میں روسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایسے میں کییف اور برسلز کو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا اور ماسکو حکومت کو اس امر کا قائل کرنا ہو گا کہ ان دونوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے سے ماسکو کو کسی بھی طرح سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اُلٹا فائدے میں رہے گا۔ اگر مشرقی یوکرائن کو خصوصی تشخص حاصل ہو جاتا ہے تو یہ بھی ایک ہوشیاری سے اٹھایا جانے والا قدم ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ پابندیوں اور جوابی پابندیوں کا معاملہ کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر تنبیہ کرنا درست ہے لیکن خود کو زیادہ طاقتور ثابت کرنے کے لیے تادیبی اقدامات کا راستہ اختیار کرنا غلط ہے کیونکہ ایسا ہوا تو پھر سب کے حصے میں جیت نہیں بلکہ صرف ہار ہی آئے گی۔