1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن تنازعے میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی، اقوام متحدہ

افسر اعوان13 اگست 2014

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یوکرائن تنازعے میں اب تک ہونے والی کُل ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ دو ہفتوں کی لڑائی کے بعد دو گنا ہو کر 2000 تک پہنچ گئی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یوکرائن نے روس کی طرف سے امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کے قافلے کو مشرقی یوکرائن بھیجنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یوکرائن نے امدادی سامان بھیجنے کے روسی فیصلے کو روس نواز باغیوں کی مدد کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس قافلے کو یوکرائن کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یوکرائنی وزیر اعظم آرسینی یاٹسینی یُک نے آج بدھ کے روز ایک حکومتی میٹنگ کے دوران کہا، ’’پہلے انہوں نے ٹینک بھیجے، گراڈ میزائل اور راہزن بھیجے جو یوکرائنی لوگوں پر حملے کر رہے ہیں اور پھر پانی اور نمک بھیج دیا۔‘‘

یوکرائنی وزیراعظم کے یہ الفاظ دراصل کییف اور دیگر مغربی ممالک میں پائے جانے والے شکوک وشبہات کے عکاس ہیں کہ یوکرائنی کی سر زمین پر امدادی قافلہ بھیجنے کا مقصد دراصل روس نواز باغیوں کی مدد کرنا ہو سکتا ہے جو یوکرائنی حکومتی فورسز کے سامنے اپنی مزاحمت کھوتے جا رہے ہیں۔

تاہم ماسکو حکام کے مطابق اس قافلے کے ذریعے یوکرائن کے مشرقی علاقوں کے رہائشیوں کو وہ دو ہزار ٹن امدادی سامان پہنچایا جائے گا جو ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں کے لوگوں نے جمع کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سامان سے لدے 280 ہیوی ٹرک دارالحکومت ماسکو کے علاقے سے منگل کے روز روانہ ہوئے اور قریب 500 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد آج روس کے جنوب مغری شہر وورونیش پہنچے ہیں جہاں انہیں ایئر بیس پر ٹھہرایا گیا ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی خاتون ترجمان سِیسی پُوژی Cecile Pouilly نے کہا ہے کہ 10 اگست تک ہلاکتوں کی اندازہ لگائی گئی تعداد 2086 تک پہنچ گئی تھی۔ جبکہ 26 جولائی تک یہ تعداد 1129 تھی۔ ہلاک ہونے والوں کی اس مجموعی تعداد میں یوکرائنی فوجی، باغی گروپوں کے ارکان اور عام شہری شامل ہیں۔ پوژی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں یہ اضافہ دراصل وہاں تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

سامان سے لدے 280 ہیوی ٹرک ماسکو کے علاقے سے منگل کو روانہ ہوئےتصویر: Reuters

یوکرائن کی طرف سے منگل 12 اگست کو کہا گیا تھا کہ ٹرکوں کے قافلے کے ذریعے بھیجا گیا امدادی سامان یوکرائن کی سرحد پر اتار کر ریڈ کراس کے نمائندوں کی نگرانی میں دوسرے ٹرکوں پر منتقل کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مطابق اس سامان میں موجود اشیاء کی پڑتال کی جائے گی۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاروف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کو یوکرائن کے ٹرکوں میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

کییف حکومت کی طرف سے روس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ یوکرائنی حکومت کے مطابق اس اسلحے میں ٹینک، میزائل اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔ تاہم روس کی طرف سے اس الزام کی تردید کی جاتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں