1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن، روس نواز باغیوں کے خلاف عسکری کارروائی جاری

عاطف بلوچ3 مئی 2014

یوکرائنی فورسز کی طرف سے مشرقی علاقوں میں روس نواز جنگجوؤں کے خلاف گزشتہ روز شروع کیا جانے والا عسکری آپریشن وسیع کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف باغیوں نے سلامتی و تعاون کی یورپی تنظیم کے معائنہ کاروں کو آزاد کر دیا گیا ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یوکرائن کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ آرسین آواکوف نے ہفتے کے دن بتایا ہے کہ ملکی فوج نے صبح سویرے کراماٹورسک نامی شہر میں روس نواز جنگجوؤں کے متعدد سکیورٹی چیک پوائنٹس کو تباہ کرتے ہوئے اس شہر میں قائم ٹیلی وژن ٹاور پر حکومتی کنٹرول بحال کرا لیا ہے۔

ہفتے کے دن یوکرائن کی طرف سے اس مشرقی شہر میں فوجی کارروائی سے قبل گزشتہ روز یعنی جمعے کو اس تنازعے کا خونریز ترین دن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دن یوکرائنی فورسز نے روس نواز باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسیا میں درجنوں افراد مارے گئے۔ اسی طرح باغیوں کے گڑھ تصور کیے جانے والے شہر سلاویانسک میں بھی مسلح افراد اور فوج کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں نو افراد لقمہ اجل بنے۔

تصویر: Reuters

جمعے کےدن رونما ہونے والے پرتشدد واقعات پر روسی حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آج ہفتے کے دن روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ کییف انتطامیہ اور اس کے حامی مغربی ممالک اوڈیسیا میں ہونے والے تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق دیمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ کییف اور اس کی مدد کرنے والے مغربی ممالک عملی طور پر خون خرابہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اس تازہ تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اب رواں ماہ کے اواخر میں یوکرائن میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کرانا ایک عجیب بات ہو گی۔

تاہم اس تمام تر پیشرفت کے باوجود یوکرائنی وزیر داخلہ آرسین آواکوف نے ملک کے مشرقی علاقوں کو ’دہشت گردوں‘ سے آزاد کرانے کی کوشش جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نہیں رُکیں گے۔‘‘ یوکرائنی حکومت نے جمعے کے دن مشرقی علاقوں میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ یوکرائن کے حکام نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں اس کے چار فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ادھر ایک اور پیشرفت میں یوکرائن کے روس نواز باغیوں نے سلامتی و تعاون کی یورپی تنظیم (او ایس سی ای) کے فوجی معائنہ کاروں کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیا ہے۔ سلاویانسک کے باغیوں نے پچیس اپریل کو سات یورپی اور پانچ یوکرائنی اہلکاروں کو اس وقت اپنی تحویل میں لے لیا تھا، جب یہ وہاں نگرانی کی غرض سے پہنچے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ سات یورپی اہلکاروں کے علاوہ پانچ یوکرائنی اہکاروں کو بھی آزاد کر دیا گیا ہے۔

ایک ہفتے تک باغیوں کی حراست میں رہنے والے ان یورپی اہلکاروں میں جرمنی۔ چیک ری پبلک، ڈنمارک، پولینڈ اور سویڈن کے باشندے شامل تھے۔ برلن حکومت نے او ایس سی ای کے ان اہلکاروں کی فوری رہائی کے لیے ماسکو حکومت پر زور دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ روس نواز باغی یوکرائن کے دس سے زائد مشرقی شہروں کی حکومتی عمارتوں کو اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں