1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن میں مظاہرین کو دبانے کے لیے قانون منظور

ندیم گِل17 جنوری 2014

یوکرائن کی پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد احتجاجی مظاہروں کو روکنا ہے۔ اس قانون کے تحت غیرسرکاری تنظیموں کو بھی ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ صدر کی جانب سے اس قانون پر دستخط ابھی باقی ہیں۔

تصویر: Reuters/Inna Sokolovska

پارلیمنٹ نے یہ بِل جمعرات کو منظور کیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس کے نتیجے میں عوام میں پائی جانے والی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو پہلے ہی سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں صدر یانوکووچ کی ریجنز پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے اس قانون کی حمایت کی تھی۔ اس قانون میں روس کی طرز پر غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن کا مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تنظیموں کو اپنے منافع پر ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔

قانون کے مطابق بیرون ملک سے مالی مدد حاصل کرنے والی وہ غیرسرکاری تنظیمیں جو یوکرائن میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گی، انہیں ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت کھلے مقامات پر بلا اجازت کیمپ، اسٹیج یا ساؤنڈ سسٹم لگانا بھی غیر قانونی ہو گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو 640 ڈالر کے برابر تک جرمانے یا پندرہ روز تک کی سزائے قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس قانون کا مسودہ ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس کا مقصد احتجاجی مظاہروں پر قابو پانا دکھائی دیتا ہے جو دارالحکومت کییف اور دیگر شہروں میں گزشتہ برس نومبر سے جاری ہیں۔

یوکرائن میں گزشتہ نومبر سے مظاہرے جاری ہیںتصویر: Reuters

اُس وقت صدر وکٹر یانُوکووِچ نے یورپی یونین کے ساتھ وسیع تر تعلقات کے لیے طویل کوششوں کے بعد باقاعدہ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے وہ روس کے ساتھ تعلقات پر توجہ دے رہے تھے۔ یوکرائن کے اُن شہریوں نے حکومت کے اس فیصلے پر ناگواری ظاہر کی تھی جو یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلق کے خواہاں ہیں۔ یورپ نواز شہری اپنے مطالبات لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اس سابق سوویت جمہوریہ میں 2004ء کے نارنجی انقلاب کے بعد ہونے والے یہ سب سے بڑے مظاہرے تھے، جو حکومت کے لیے بھی خاصی پریشانی کا باعث بنے۔ حکومت نے مظاہرین کو خبردار بھی کیا تھا۔ حکام کا یہ بھی کہنا تھا  کہ مظاہروں کے ذریعے اپوزیشن رہنما اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے اس مبینہ عمل کی تفتیش کی جائے گی۔ مظاہرین کو بھی خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم اس احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے، البتہ سڑکوں پر پہلے کی نسبت مظاہرین کی تعداد کم رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود سینکڑوں افراد بدستور کییف کے آزادی چوک پر ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ مظاہرین سٹی ہال جیسی سرکاری عمارتوں پر بھی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔  گزشتہ اتوار کو دارالحکومت میں صدر یانوکووچ کے خلاف مظاہرے میں کم از کم 50 ہزار افراد شریک ہوئے تھے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں