یوکرائن کا بحران برقرار، کیری کی لاوروف سے ملاقات
5 مارچ 2014
ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ کریمیا میں موجود ’سیلف ڈیفنس‘ فورسز کو واپس اپنی بیرکس میں جانے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات سے قبل لاوروف کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے جزیرہ نما حصے کریمیا کا کنٹرول سنھبالنے والی فورسز روسی کمانڈ میں نہیں ہیں۔
دوسری طرف برطانیہ نے روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیرس میں یوکرائن کے عبوری وزیرخارجہ سے ملاقات کریں تاکہ کریمیا کے مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کا راستہ ہموار ہو سکے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے پیرس ہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے بعد کہا کہ مقصد یہ ہے کہ روس کو بھی مذاکراتی عمل میں لایا جائے یا کم از کم اس کی ابتداء کی جائے۔
روس یوکرائن کو عدم استحکام کا شکار نہ کرے، میرکل
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے روس سے کہا ہے کہ وہ کوئی ایسا عمل کرنے سے گریز کرے جس سے یوکرائن کی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔ میرکل کے ترجمان اشٹیفن زائیبرٹ نے آج برلن میں ایک نیوز بریفنگ میں یوکرائن کی صورتحال کو ’پریشان کن‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو کوئی بھی ایسا اقدام کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو اس صورتحال میں مزید خرابی کا سبب بنے۔ میرکل کے ترجمان کے بقول یوکرائن کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور یہ بات ہر ایک پر واضح ہونی چاہیے کہ یوکرائن کی سرحدی سالمیت ہر حال میں برقرار رکھی جائے۔
قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کی شب دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں ایک ایسے منصوبے پر اتفاق رائے ہوا ہے، جس کے تحت یوکرائن میں تناؤ کی کیفیت کم کی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت روس کو کہا گیا ہے کہ وہ یوکرائن کے خود مختار علاقے کریمیا سے اپنی فوجی واپس بلا لے اور وہاں روسی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی معائنہ کار تعینات کیے جائیں۔