یوکرائن کا بحران: روسی، امریکی اختلافات برقرار
15 مارچ 2014
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے لندن سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ چھ گھنٹے دورانیے کی ایک ملاقات میں یوکرائن کے تنازعے کے حل کے لیے سیر حاصل بات چیت کی۔ اس ملاقات کے بعد لاوروف نے اس مذاکراتی عمل کو ’تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے روس اور امریکا کوئی مشترکہ موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔
یوکرائن کے نیم خود مختار علاقے کریمیا کی پارلیمان کی طرف سے روس کے ساتھ ممکنہ الحاق کے لیے کرائے جانے والے ریفرنڈم کے تناظر میں روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا، ’’ہم یوکرائنی عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ کل سولہ مارچ اتوار کے روز ہونے والے اس ریفرنڈم پر امریکا اور یورپی ممالک نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناجائز قرار دے رکھا ہے۔ امریکا اور یورپی یونین نے روس کو یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ اگر طے شدہ پروگرام کے تحت یہ ریفرنڈم کرایا جاتا ہے تو ماسکو کے خلاف فوری طور پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔
لندن میں تعینات روسی سفیر کے گھر پر جان کیری سے ملاقات کے بعد سیرگئی لاوروف نے کہا، ’’ہم (یوکرائن کی) صورتحال پر کوئی مشترکہ موقف اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ابھی تک اس تنازعے پر اختلافات برقرار ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ روس یوکرائن پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
اس موقع پر جان کیری کا کہنا تھا کہ کریمیا اور اس کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی افواج کی تعیناتی پر امریکا کو گہری تشویش ہے۔ کیری نے خبردار کیا کہ اس تنازعے پر امریکا اور یورپ ’انتہائی سنجیدہ‘ طریقے سے ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ تاہم لاوروف نے متنبہ کیا کہ روس پر اقتصادی یا سفارتی پابندیوں کی وجہ سے یہ معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ لاوروف کا کہنا تھا، ’’ہمارے پارٹنرز سمجھتے ہیں کہ پابندیاں عائد کرنا غیر تعمیری ثابت ہو گا۔‘‘
امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کے مابین یوکرائن کے تنازعے کے حل کے لیے یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب کریمیا میں ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ یوکرائن کے اس نیم خود مختار علاقے کے عوام روس کے ساتھ الحاق کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اتوار کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں کریمیا کے عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پھر یوکرائن کے ساتھ اپنی خود مختاری کو مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہہ رکھا ہے کہ عالمی برادری اس ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی اور کییف کی عبوری حکومت کی اجازت کے بغیر یہ عمل غیرقانونی ہے۔ تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک کی طرف سے عائد کیے جانے والے ایسے الزامات مسترد کر دیے ہیں کہ یہ ریفرنڈم غیر قانونی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پوٹن نے واضح کیا ہے کہ کریمیا میں منعقد کرایا جانے والا یہ ریفرنڈم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ اس پوری صورتحال میں روس کے تقریباﹰ آٹھ ہزار فوجی مشرقی سرحدی علاقوں میں عسکری مشقیں کر رہے ہیں جبکہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور امریکا کے طیارے بھی یوکرائن کے ان علاقوں میں فضائی گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔