یوکرائن کا بحران، میرکل اور اوباما کے مابین مشاورت
5 مارچ 2014
خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کی شپ امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مابین ہونے والی گفتگو میں ایک ایسے منصوبے پر اتفاق رائے ہوا ہے، جس کے تحت یوکرائن میں تناؤ کی کیفیت کم کی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت روس کو کہا گیا ہے کہ وہ یوکرائن کے خود مختار علاقے کریمیا سے اپنی فوجی واپس بلا لے اور وہاں روسی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی معائنہ کار تعینات کیے جائیں۔
کریمیا میں روسی افواج کی موجودگی کی خبروں کے بعد مغربی ممالک اور روس کے مابین کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ روسی صدر ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ یوکرائن میں کسی جارحانہ طرز عمل کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکٹور یانوکووچ کی حکومت ختم ہونے کے بعد بالخصوص کریمیا میں نہ صرف روسی نسل کی آبادی کو خطرات لاحق ہیں بلکہ انسانی حقوق کی صورتحال بگڑ بھی بگڑ سکتی ہے۔ کییف کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ان روسی بیانات کو ایک بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل یہ یوکرائن پر مزید قبضے کا بہانہ ہے۔ یوکرائن کی عبوری قیادت سے ملاقات کے بعد گزشتہ روز کیری نے کہا کہ کریمیا میں روسی مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
امریکی صدر اور چانسلر میرکل کے مابین ہونے والی گفتگو میں جس منصوبے کو پر بات چیت کی گئی ہے، اس میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ روس اور یوکرائن کی عبوری حکومت کے مابین مکالمت کا سلسلہ شروع کیا جائے، جس میں کچھ بین الاقوامی ثالث بھی شریک کیے جا سکتے ہیں۔ روس نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ادھر کییف نے کہا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کے لیے ماسکو حکومت کے ساتھ پہلا رابطے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
صدر اوباما نے میرکل کے ساتھ گفتگو میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر یوکرائن کی صورتحال میں بہتری نہیں آتی اور روس وہاں سے اپنے فوجی واپس نہیں بلاتا تو وہ سوچی میں جون میں منعقد ہونے والی جی ایٹ سمٹ میں شریک نہیں ہوں گے۔ یہ امر اہم ہے روسی شہر میں ہونے والی اس سمٹ کی تیاریاں پہلے ہی معطل کی جا چکی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ روس کی طرف سے ‘یوکرائن کی سالمیت اور سرحدی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزیوں پر‘ میرکل اور اوباما نے متقفہ طور پر شدید تحفظٰات کا اظہار کیا ہے۔ اوباما نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن میں عسکری پیشقدمی دراصل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اوباما کے بقول روس کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو بدلتے ہوئے اس بحران کے حل کے لیے عالمی برداری کا ساتھ دے۔ واشنگٹن حکومت اگرچہ روس پر اقتصادی پابندیوں پر غور کرنے کا اشارہ دے چکی ہے لیکن ابھی تک براہ راست کسی فوجی مداخلت کے آپشن پر بات نہیں کی گئی ہے۔
ادھر ایک اور پیشرفت میں روسی گیس کمپنی ’گیس پروم‘ نے کہا ہے کہ وہ یوکرائن کو گیس کی ترسیل روک رہا ہے۔ یہ روسی کمپنی یوکرائن کے معزول صدر یانوکووچ کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت یوکرائن کو گیس سپلائی کر رہی تھی۔ اب اس بحرانی صورتحال میں گیس پروم نے کہا ہے کہ چونکہ کییف حکومت نے فروری کے بل ادا نہیں کیے ہیں، اس لیے گیس کی سپلائی منقطع کی جا رہی ہے۔ اس کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ یوکرائن اس حالیہ بل کے علاوہ ماضی کے ادائیگیوں کی مد میں 1.5 بلین یورو کا مقروض ہے۔