1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کا بحران، کریمیا میں کشیدگی

عابد حسین27 فروری 2014

یوکرائنی علاقے جزیرہ نما کریمیا میں روس کے حامی مسلح افراد نے اِس نیم خودمختار علاقے کی مقامی حکومت کے ہیڈکوارٹرز پر جمعرات کی صبح میں قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد علاقے میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Ukraine Krim Simferopol Parlament besetzt Flagge
کریمیا کی پارلیمنٹ بلڈنگ پر کریمیا اور روس کے پرچم لہراتے ہوئےتصویر: Reuters

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے جزیرہ نما کریمیا کی صورت حال پر روس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یوکرائنی بحران کے دوران کریمیا میں کشیدگی کو بڑھانے سےگریز کرے۔ موجودہ صورت حال پر راسموسین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ٹویٹر پر جاری میسج میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ کوئی ایسا ایکشن نہ لے کہ جس کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کو فروغ اور غلط فہمی میں اضافہ ہو۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے مغربی دفاعی اتحاد کے یوکرائن کمیشن پر بھی واضح کیا کہ کریمیا میں جو صورت حال پیدا ہے وہ انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ داری کی عکاس ہے۔ راسموسن نے فریقین کو کشیدگی بڑھانے سے اجتناب کو مشورہ دیا ہے۔

کریمیا کے نیم خود مختار علاقے کے مرکزی شہر سِمفیروپول میں پارلیمنٹ کی عمارت کے ارد گرد کھڑی پولیستصویر: Reuters

روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس نے آج صبح رپورٹ کیا تھا کہ روس کے حامی مسلح افراد نے یوکرائن کے علاقے جزیرہ نما کریمیا کی مقامی حکومت کے صدر دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ کریمیا کے نیم خود مختار علاقے کے مرکزی شہر سِمفیروپول (Simferopol) میں مقامی حکومت کا ہیڈکوارٹرز دو عمارتوں پر مشتمل ہے اور ان پر روس کے حامی مسلح افراد قابض ہو کر روسی پرچم کو لہرا دیا۔ مقامی پولیس نے مقبوضہ عمارت کو چاروں جانب سے گھیر رکھا ہے۔ یوکرائن کے عبوری وزیر داخلہ ارسن اواکوف نے بھی مقامی پولیس کو چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔ مقامی حکومت کی بلڈنگ کے باہر گزشتہ روز روس نواز اور کییف کے حامیوں کی مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ مقامی تاتار نسل کے لوگ موجودہ یورپی نواز حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

کریمیا میں پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں یوکرائن کی عبوری حکومت نے سکیورٹی فورسز کو بھی چوکس کر دیا ہے۔ عبوری صدر اولیکزانڈر ترشینوف نے کریمیا میں روسی نیول بیس میں موجود روسی افواج سے کہا ہے کہ وہ اپنے بیس سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں اور اگر وہ باہر آئیں تو اِسے جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یوکرائنی دارالحکومت کییف میں عبوری حکومت نے روسی سفیر کو طلب کر کے مشاورت کا عمل شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ عبوری سفیر آندری ووروبیئوف کو ایک تحریر شدہ خط دیا گیا اور اس میں مشاورت شروع کرنے کے علاوہ کریمیا کے بندرگاہی مقام سیواسٹوپول (Sevastopol) پر واقع روسی نیول بیس کی افواج کو بیس کے اندر ہی رہنے کا کہا گیا ہے۔

مقامی حکومت کی بلڈنگ کے باہر گزشتہ روز روس نواز اور کییف کے حامیوں کے درمیان ہونے والی مڈبھیڑتصویر: Reuters

روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اپنے ہم وطنوں کے حقوق کا دفاع انتہائی پرعزم اور قوت کے ساتھ کیا جائے گا۔ خیال کیا گیا ہے کہ روسی وزارت خارجہ کا یہ بیان یوکرائن کے علاقے کریمیا میں پیدا صورت حال کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر وبادیمیر پوٹین کی ہدایت پر قبل از وقت وسطی اور مغربی علاقوں میں متعین روسی افواج کے معائنے کی مشقوں میں بحری، بری اور فضائی افواج شریک ہیں۔ ان مشقوں میں 90 جنگی طیارے، ڈیڑھ لاکھ پیدل فوجی اور 80 کے قریب بحری جہاز شامل ہیں۔ خصوصی انسپیکشن کی مشقیں کل بدھ سے شروع ہو گئی ہیں۔ کریمیا کے حوالے سے ایک اور پیش رفت یہ ہے کہ روسی وزارت دفاع نے مغربی علاقے میں جنگی طیاروں کو چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔ روس کے مغربی علاقے کی سرحد یوکرائن سے متصل ہے۔

یوکرائن کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ پارلیمنٹ سے معزول ہونے والے صدر وکٹور یانوکووچ نے روس سے اپیل کی ہے کہ انہیں ملک کے انتہا پسندوں سے بچایا جائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق روس نے اُن کی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔ وکٹور یانووکوچ کو روسی دارالحکومت ماسکو کے یوکرائنا ہوٹل کی لابی میں دیکھا گیا تھا اور اب وہ کریملن کے نواح میں واقع Barvikha سینیٹوریم میں قیام پذیر ہو گئے ہیں۔ یہ سینیٹوریم روسی صدر کی انتظامیہ کی نگرانی میں ہے۔ یانوکووچ نے گزشتہ ہفتے کے دوران مسلسل عوامی مظاہروں کے بڑھتے دباؤ کے بعد کییف میں واقح صدارتی رہائش گاہ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے خود کو بدستور یوکرائن کا جائز سربراہ قرار دیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں