1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کا بحران

عابد حسین28 فروری 2014

یوکرائن میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں آ تو گیا ہے لیکن معاشی و سیاسی حالات ابھی نئی عبوری حکومت کے پوری طرح کنٹرول میں نہیں ہیں۔ بحیرہ اسود میں واقع جزیرہ نما کریمیا میں پیدا شدہ صورت حال خاصی پریشان کُن ہے۔

Flughafen Simferopol Krim nach einer angeblichen Besetzung im normalen Betrieb
سمفروپول کے ہوائی اڈے کے باہر مسلح باوردی شخص پہرہ دیتے ہوئےتصویر: Reuters

یوکرائن کے سکیورٹی حکام کے مطابق انہوں نے کریمیا کے دونوں ہوائی اڈوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔ یہ ایئر پورٹ سیواسٹوپول اور سمفروپول میں واقع ہیں۔ یوکرائن کے دفاعی اور سکیورٹی کے محکمے کے سیکرٹری آندری پیرُوبی کا کہنا ہے کہ کریمیا کے ہوائی اڈوں کا کنٹرول اُن مسلح افراد نے سنبھالا تھا جن کو روس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ یوکرائن کے علاقے کریمیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کییف حکام نے کہا کہ اس کے جنوبی علاقے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ کییف کی عبوری حکومت اس پہلو پر غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایمرجنسی نافذ کر بھی دی گئی تو کریمیا میں فوج تعینات نہیں کی جائے اور وہاں پہلے سے موجود فورسز کو ہی سکیورٹی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔ دوسری جانب یوکرائن کی بارڈر گارڈ سروس نے بتایا ہے کہ جمعے کو روس کے دس سے زائد جنگی ہیلی کاپٹر کریمیا کے علاقے میں یوکرائن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

سمفروپول کے ٹرمینل کے باہر وردی میں ملبوس مسلح افرادتصویر: Reuters

یوکرائن کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ ارسن اواکوف کا کہنا ہے کہ بحیرہ اسود کے شہر سیواٹوپول میں روسی فوج نے ملٹری ایئرپورٹ کو بند کر رکھا ہے جب کہ علاقائی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر نا معلوم مسلح افراد نے گشت شروع کر رکھی ہے۔ سیواسٹوپول کا ملٹری ہوائی اڈہ یوکرائنی وزارت داخلہ کی ملکیت ہے۔ ان دونوں شہروں میں کوئی پرتشدد کا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ اُدھر اس صورت حال پر روسی وزارت خارجہ و دفاع نے کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فیس بُک پر یوکرائنی وزیر داخلہ لکھا ہے کہ یہ فوجی مداخلت اور قبضہ ہے۔ اس دوران یوکرائنی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کر کے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔

مغربی اقوام نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرائن میں جاری تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ دریں اثناء روسی جيٹ فائٹر گزشتہ روز یوکرائن کے سرحدی علاقے پر فضائی گشت کرتے بھی دیکھے گئے۔ ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ وہ یوکرائن کے معاملے پر مغربی ممالک کے ساتھ تعاون کرنے پر رضا مند ہے لیکن ساتھ ہی کریملن نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی طاقتیں یوکرائنی عوام کے ایماء پر خود کوئی فیصلہ نہ کریں۔ یوکرائن میں سیاسی بحران کے نتیجے میں اس سابقہ سوویت جمہوریہ کے منقسم ہونے کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔

مسلح افراد نے سیواسٹوپول کی جانب جانے والا بند کر رکھا ہےتصویر: Reuters

اِس سے قبل یوکرائنی علاقے کریمیا کے دارالحکومت سمفروپول کے ہوائی اڈے پر جمعہ کو علی الصبح مسلح افراد نےکنٹرول حاصل کر لیا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرکوں پر سوار ہو کر آنے والے تقریباﹰ ان پچاس مسلح افراد نے فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔ تاہم ایئر پورٹ حکام کے مطابق پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ گزشتہ روز اسی شہر میں روس نواز مسلح افراد نے پارلیمنٹ کی عمارت پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ یوکرائن کی نئی عبوری حکومت کے عہدیدار آج بروز جمعہ مذاکرات کے لیے کریمیا پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ روز کریمیا کی پارلیمان نے کہا تھا کہ اس ریجن کو مزید خودمختاری دیے جانے کے حوالے سے ایک ریفرنڈم منعقد کرایا جائے اور وہاں کی حکومت کو روس نواز حکام سے تبدیل کر دیا جائے۔

یوکرائن کے معزول صدر وکٹر یانوکووچ آج ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ یوکرائن چھوڑنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ منظر عام پر آئیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے روس سے تحفظ کی درخواست کی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق روس نے ان کی درخواست قبول کر لی تھی اور اس وقت وہ صدارتی دفتر کے زیرانتظام ایک رہائش گاہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یوکرائن کے جزیرہ نما علاقے کریمیا میں مقامی حکومت نے انتظامی اختیارات روس نواز علاقائی پارلیمنٹ کو سونپ دیے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں