1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کا تنازعہ شدت اختیار کرتا ہوا

عاطف بلوچ4 مارچ 2014

یوکرائن میں روسی افواج کی تعیناتی کی خبروں کے بعد امریکا نے روس کے ساتھ عسکری تعاون معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادھر ماسکو نے کہا ہے کہ معزول صدر یانوکووچ نے یوکرائن میں روسی فوجی تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔

تصویر: Alexander Nemenov/AFP/Getty Images

یوکرائن میں جاری سیاسی بحران کے تناظر میں امریکا کے ساتھ یورپی یونین نے بھی ماسکو حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ جارحانہ اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ ایک تازہ پیشرفت میں پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ یوکرائن کے تنازعے کی وجہ سے روس کے ساتھ عسکری تعاون معطل کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت روس کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے اس پر اقتصادی و سفارتی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم امریکا نے فوجی مداخلت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یوکرائنی فوجی چھاؤنی پیریوالنے میں یوکرائن کے چوکس فوجیتصویر: DW/M. Bushuev

یوکرائن کے معاملے پر عالمی برداری کی طرف سے شدید غم و غصے کے باوجود روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا رویہ انتہائی غیر لچکدار دیکھائی دے رہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق روسی فوجیں یوکرائن کے علاقے کریمیا میں کھلے عام گشت کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ میں یوکرائن کے مشن کے مطابق سولہ ہزار فوجی کریمیا میں پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ماسکو حکومت نے ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ بحیرہ اسود میں تعینات روسی بحری بیڑے کے کمانڈر نے یوکرائن کی افواج کو دھمکی دی ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں ورنہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی طاقتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روس کریمیا سے اپنی افواج واپس بلا لے اور اس تنازعے کے حل کے لیے وہاں بین الاقوامی مانیٹرز تعینات کیے جائیں۔

ماسکو حکومت کا اصرار

اس تناظر میں روس نے کہا ہے کہ دو ہفتے قبل یوکرائن کے معزول صدر وکٹور یانوکووچ اور اپوزیشن کے مابین ہونے والی اس ڈیل پر عمل کیا جائے، جس کے تحت کییف میں یونٹی حکومت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا تھا اور دسمبر میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ واضح رہے کہ روس فرار ہونے سے قبل روس نواز یانوکووچ نے اپوزیشن کے ساتھ اقتدار میں شراکت کی ایک ڈیل کو حتمی شکل دی تھی۔ اس ڈیل کو حتمی شکل دینے میں فرانس، پولینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے تھے۔

سمفروپول میں موجود روسی فوجیتصویر: DW/M. Bushuev

جنیوا میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے ایک اجلاس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرائن یانوکووچ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کرے۔ لاوروف کا کہنا تھا کہ کییف کو اس معاہدے کے تحت ایسی یونٹی حکومت تخلیق دینا چاہیے، جس میں یورپ اور روس نواز دونوں گروپوں کو نمائندگی حاصل ہو۔

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری یوکرائن کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنے کے لیے اس سابقہ سوویت جمہوریہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ادھر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بھی یوکرائن میں روسی افواج کی تعیناتی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس وہاں سے اپنے فوجیوں کو واپس نہیں بلاتا تو اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہے۔

روس جارحیت ترک کر دے، یوکرائنی عبوری صدر

یوکرائن کے نگران صدر اولکزانڈر تریشنوف نے روسی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’جارحیت‘ کا مظاہرہ نہ کرے، ’’میں روس پر زور دیتا ہوں کہ وہ جارحیت اور اشتعال انگیزی ترک کر دے۔ یہ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔‘‘ نشریاتی خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ یوکرائن کی بحریہ کے کمانڈرز اور دیگر عملہ دفاع کے لیے تیار ہیں، ’’وہ یوکرائن کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘

اس تازہ پرتناؤ صورتحال کے تناظر میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خطرناک کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن کی بحریہ کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے لیے ماسکو حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

یوکرائن کی صورت حال پر سلامتی کونسل کا اجلاستصویر: Getty Images

فوج یانوکووچ کی درخواست پر بھیجی، روس

روسی حکومت کے مطابق کریمیا میں روسی افواج کی تعیناتی ضروری ہے تاکہ وہاں روسی مفادات کو ’لاحق خطرات‘ سے نمٹا جا سکے۔ پیر کو نیو یارک میں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں روسی سفارتکار وٹالی چرکین نے کہا کہ کریمیا میں افواج کی تعیناتی معزول صدر یانوکووچ کی درخواست کے بعد کی گئی ہے۔

چرکین کا کہنا تھا، ’’یوکرائن کے آئینی طور پر منتخب کیے جانے والے نمائندے (یانوکووچ کو یقین ہے) کہ ان کا ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔‘‘ چرکین نے کہا کہ یانوکووچ کے مطابق کریمیا کے بالخصوص جنوب مشرقی علاقوں میں عوام کو دہشت گردی اور پر تشدد واقعات کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی افواج کریمیا کا مکمل کنٹرول حاصل کیے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس خود مختار علاقے کے سرحدی راستوں پر روسی فوج گشت کر رہی ہے جبکہ وہاں قائم تمام تر فوجی اڈوں کا کنٹرول بھی انہی کے پاس ہے۔ کییف میں عبوری حکومت کو ایسے خدشات بھی لاحق ہیں کہ روسی فوجی یوکرائن کے دیگر مشرقی علاقوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں