1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کا سیاسی بحران، مظاہرے جاری

عابد حسین21 جنوری 2014

یورپ نوازوں کا یوکرائن میں صدر یانوکووچ کی پالیسیوں کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب صدر یانوکووچ نے مظاہرین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یوکرائن میں گزشتہ رات گئے تک مظاہرے جاری رہنے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ پولیس نے نئے قانون کے تحت مزید تیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ اتوار کی طرح پیر کے روز بھی مظاہرین سڑکوں پر رہے۔ تاہم اُن کی تعداد اتوار کے مظاہرے میں شامل مظاہرین جتنی نہیں تھی۔

پولیس نے مظاہرین پر ربر کی گولیاں بھی چلائیںتصویر: picture-alliance/AP Photo

یوکرائنی دارالحکومت کییف میں پیر کے روز شدید سردی تھی اور درجہٴ حرارت منفی دس سینٹی گریڈ تھا لیکن مظاہرین شدید موسم سے ہر گز نہیں گھبرائے۔ پیر کے روز بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اتوار کے روز ہونے والے مظاہروں میں دو سو افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والے ان تازہ مظاہروں میں اب تک ایک سو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

کییف میں مظاہروں کا مرکز شہر کے مرکز میں واقع ڈائنمو کییف فٹ بال اسٹیڈیم ہے۔ اِس مقام پر مظاہرین اور پولیس رکاوٹ کے ایک طرف کھڑے رہے۔ پیر کے روز بھی پولیس پر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اکا دُکا پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ مظاہرین کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں پولیس نے خوفزدہ کرنے والے دستی بم بھی پھینکے اور بعض اوقات ربر کی گولیاں بھی چلائیں۔ اس دوران کم از کم تیس افراد کے گرفتار کرنے کی بھی اطلاع ہے۔

یوکرائن کے عالمی شہرت کے باکسر اور اپوزیشن لیڈر وتالی کلٹچکو نے اتوار کے روز صدر وکٹور یانوکووچ سے ملاقات کی تھی۔ وتالی کلٹچکو نے صدر کو ملاقات کے دوران مشورہ دیا کہ وہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچاتے ہوئے مفاہمت کی راہ اختیار کریں۔ یانوکووچ نے جواب میں بتایا کہ ایک خصوصی کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے تناظر میں اپوزیشن سے ملاقاتیں کر کے ٹھوس حل کو تجویز کرے گا۔ اس کمیشن کا سربراہ آندری کلائیُوف (Andriy Klyuyev) کو مقرر کیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے کمیشن سے ملاقاتیں کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

یوکرائن کے صدر وکٹور یانوکووچتصویر: picture-alliance/dpa

پیر کے روز یانوکووچ نے قوم کے نام اپنی نشریاتی تقریر میں مذاکرات اور مفاہمت کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ یوکرائنی صدر نے اپنی تقریر میں عوام کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے عناصر سے خبردار رہیں جو اشتعال انگیزی پھلا کر ریاست اور معاشرے کو تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یانوکووچ نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ انہیں یقین ہے کہ موجودہ بحرانی صورتحال صرف کییف کے لیے ہی خطرے کا باعث نہیں بلکہ سارا ملک اِس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

یوکرائن میں مظاہروں میں شریک سخت گیر مؤقف رکھنے والے مظاہرین پر اپوزیشن لیڈران وتالی کلٹچکو اور آرسنی یاٹ سینیُک کا کنٹرول بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب مقید خاتون سیاستدان یُولیا ٹیمو شینکو کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں انہوں نے پولیس سے جھڑپیں کرنے والے مظاہرین کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ٹیمو شینکو کا کہنا ہے کہ اگر وہ جیل سے باہر ہوتی تو اِن مشتعل مظاہرین کے شانہ بشانہ ہوتیں۔ ٹیموشینکو کا بیان اُن کے ترجمان نے جاری کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں