1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بات چیت جاری رہے گی، کیری

ندیم گِل6 مارچ 2014

یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے امریکا اور روس کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ہوئے ہیں تاہم کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تصویر: Reuters

یوکرائن کے بحران پر بات چیت کے لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر برطانیہ، فرانس اور یوکرائن کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لاوروف نے یوکرائن کے اپنے ہم منصب کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

کیری اور لاوروف کے درمیان جمعرات کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں بھی ایک ملاقات متوقع ہے۔ بدھ کو پیرس میں بات چیت کے بعد کیری کا کہنا تھا: ’’ایسا مت سمجھیں کہ ہم نے کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں کی جس کے نتیجے میں بحران کے حل کے لیے تخلیقی اور مناسب طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔‘‘

جان کیری کا مزید کہنا تھا: ’’صورتِ حال بہت خراب ہے اور تنازعہ گھمبیر ہے، میرا نہیں خیال کہ اِن حالات میں ہم میں سے کسی نے بھی یہاں آنے سے پہلے یہ سوچا ہو گاکہ یہ مسئلہ آج یہیں حل کر لیا جائے گا۔‘‘

قبل ازیں روس نے مغربی ملکوں کا یہ مطالبہ ردّ کر دیا تھا کہ یوکرائن کے شورش زدہ علاقے کریمیا سے اس کی فوجیں واپس اپنے اڈوں پر لوٹ جائیں۔

جان کیری اور سیرگئی لاوروفتصویر: Reuters

اُدھر برسلز میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے روس کے ساتھ تعاون محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ یوکرائن کی نئی قیادت کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی یورپی یونین نے یوکرائن کے معزول صدر وکٹر یانوکووچ سمیت 18 افراد کی جائیدادیں منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق ان پر یوکرائن کے ریاستی فنڈز میں خردبرد کا الزام ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے نیویارک میں سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرائن کے بحران پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس جمعرات کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر سلامتی کونسل کا یہ چوتھا مشاورتی اجلاس ہو گا جس کے لیے اس کے پندرہ رکن ملکوں کے سفارت کار عالمی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے ملاقات کریں گے۔

اس حوالے سے سلامتی کونسل کا گزشتہ اجلاس پیر کو ہوا تھا۔ اس وقت روس نے شرکاء کو بتایا تھا کہ وکٹر یانوکووچ نے یوکرائن میں امن و امان کے لیے ماسکو حکومت سے وہاں اپنی افواج روانہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ملک ہے اور اسے کسی بھی قرارداد کو روکنے کے لیے ویٹو کا حق حاصل ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں