یوکرائن کا یورپی یونین میں شمولیت کا عندیہ، ماسکو کا شدید ردعمل
25 ستمبر 2014
یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے کہا ہے کہ ان کا ملک 2020ء میں یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پیٹرو پوروشینکو کی اس خواہش کا اظہار پر ماسکو حکومت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعرات کے دن جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل کہ یوکرائن یورپی بلاک کا حصہ بن سکے، اسے روس کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنا چاہییں۔
مغرب نواز سیاستدان پوروشینکو کی طرف سے ان دونوں اقدامات کے اعلان سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ایسے خواب چکنا چور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ سابقہ سوویت یونین کی اس جمہوریہ کو اپنے اتحادی ممالک کی فہرست میں شامل کرنے میں کامياب رہیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ یوکرائن کی حکومت نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بننے کی خواہش بھی ظاہر کی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یوکرائن کے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کا مقصد اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی سرحدوں پر سکیورٹی جلد ہائی الرٹ کر دی جائے گی۔
پوروشینکو نے جمعرات کو دارالحکومت کییف میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی علاقوں میں جنگ کی شدت اب ختم ہو چکی ہے، ’’مجھے کوئی شک نہیں کہ جنگ کا خطرناک اور اہم وقت گزر چکا ہے اور میں اس کے لیے یوکرائنی افواج اور فائٹرز کی بہادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب کییف حکومت یورپی یونین کا رکن ملک بننے کی تیاری شروع کر سکتی ہے۔
پوروشینکو نے یورپی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے ساٹھ نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں عدلیہ، سیاسی اور اقتصادی اصلاحات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ سال کی مدت میں اصلاحات کرتے ہوئے یوکرائن یورپی معیارات پر پورا اتر سکتا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر ہی یوکرائن نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی تھی۔ یونین نے رکنیت کے لیے اس معاہدے کو اہم قرار دیا تھا تاہم یہ ضروری نہیں کہ صرف اسی معاہدے سے کییف حکومت کو یورپی یونین کا حصہ بنا دیا جائے گا۔