یوکرائن کی فوجی لیڈر شپ تبدیل
4 جولائی 2014
مغرب کی حمایت یافتہ یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے مغربی یوکرائن میں پیدا شدہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ملکی فوجی لیڈر شپ کو تبدیل کر دیا ہے۔ پوروشینکو نے وزیردفاع میخائلو کووال کو منصب سے ہٹا دیا ہے۔ میخائلو کووال کی جگہ یوکرائن کے نئے وزیر دفاع والیری ہیلیٹی مقرر کیے گئے ہیں۔ ہیلیٹی کی عمر چھیالیس برس ہے اور پولیس کے محکمے کے سابق اعلیٰ افسر رہ چکے ہیں۔ نئے وزیر دفاع نے منصب سنبھالتے ہوئے پارلیمنٹ میں باغیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
یوکرائن کے صدر نے علیل چیف آف ملٹریز جنرل اسٹاف مائیخیلو کُٹسین (Mykhailo Kutsyn) کو بھی اعلیٰ فوجی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وہ رواں برس مشرقی یوکرائن میں ایک فوجی آپریشن کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ اُن کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل وکٹورمُوژینکو کو نیا چیف آف ملٹریز جنرل اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ پوروشینکو نے یوکرائن کے انتہائی دولتمند طبقے سے تعلق رکھنے والے سرمایہ دار یوری کوسُوک کو دفاعی امور کا نگران مقرر کیا ہے۔ کوسُوک زرعی دولت کے حامل ہیں۔ وہ صدارتی انتظامیہ کا حصہ رہتے ہوئی فوج کے اندر سے بدعنوان عناصر کو تلاش کر کے فارغ کریں گے۔ یوکرائنی فوج پر مشرقی یوکرائن کے باغیوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں۔
ملکی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیٹرو پوروشینکو کا کہنا تھا کہ فوج کی نئی تشکیل کا عمل انتہائی نچلی سطح سے شروع کر دیا گیا ہے اور اب ایک ایسی فوج کو تیار کیا جائے گا جو میدان جنگ میں لڑنے کے ساتھ ساتھ جیتنے کا ہنر بھی جانتی ہو۔ پارلیمنٹ میں وزیر دفاع والیری ہیلیٹی نے تقرری کے بعد اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یوکرائن اِس صورت حال میں جیتے گا اور اراکین پارلیمنٹ اُن کا یقین کریں کہ باغیوں کے علاقوں میں فتح کی پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا۔
پوروشینکو کے مشرقی یوکرائن کی صورت حال پر لیے گئے فیصلوں پر متضاد تبصرے سامنے آئے ہیں۔ کییف میں قائم ایک تھنک ٹینک ورلڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹرالیونا گیٹمنچوک کا کہنا ہے کہ یوکرائنی معاشرے میں بےصبری بڑھ رہی ہے اور وہ نئے صدر سے مثبت نتیجہ طلب کرنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ شورش زدہ علاقوں کے لوگ جنگی حالات سے تنگ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مشرقی یوکرائن کے لوگوں نے اِس یقین کا بھی اظہار کیا ہے کہ ملٹری لیڈر شپ میں تبدیلی یقینی طور پر فائدہ مند ثابت ہو گی۔ کییف کے ایک اور تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ برائے گلوبل اسٹریٹیجیز کے ڈائریکٹر وادم کاراسیف کا خیال ہے کہ پوروشینکو عوامی سطح سے پریشر کو محسوس کر رہے ہیں۔ وادم کاراسیف نے وزارت دفاع پر پولیس کے سابق اعلیٰ اہلکار کی تقرری کو انتہائی حوصلہ مند قرار دیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ یوکرائنی لوگ بےچینی سے مشرقی یوکرائن کے بحران کے اختتام کی خبر سننا چاہتے ہیں۔