1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن کی فوجی لیڈر شپ تبدیل

عابد حسین4 جولائی 2014

مشرقی یوکرائن کے روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کے تناظر میں صدر پوروشینکو نے نیا وزیر دفاع اور ملکی فوج کے لیے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔

Poroshenko und Geletej im Parlament 03.07.2014
صدر پوروشینکو اور نئے وزیر دفاع والیری ہیلیٹیتصویر: Anatolii Stepanov/AFP/Getty Images

مغرب کی حمایت یافتہ یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے مغربی یوکرائن میں پیدا شدہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ملکی فوجی لیڈر شپ کو تبدیل کر دیا ہے۔ پوروشینکو نے وزیردفاع میخائلو کووال کو منصب سے ہٹا دیا ہے۔ میخائلو کووال کی جگہ یوکرائن کے نئے وزیر دفاع والیری ہیلیٹی مقرر کیے گئے ہیں۔ ہیلیٹی کی عمر چھیالیس برس ہے اور پولیس کے محکمے کے سابق اعلیٰ افسر رہ چکے ہیں۔ نئے وزیر دفاع نے منصب سنبھالتے ہوئے پارلیمنٹ میں باغیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

یوکرائن کے صدر نے علیل چیف آف ملٹریز جنرل اسٹاف مائیخیلو کُٹسین (Mykhailo Kutsyn) کو بھی اعلیٰ فوجی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وہ رواں برس مشرقی یوکرائن میں ایک فوجی آپریشن کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ اُن کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل وکٹورمُوژینکو کو نیا چیف آف ملٹریز جنرل اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ پوروشینکو نے یوکرائن کے انتہائی دولتمند طبقے سے تعلق رکھنے والے سرمایہ دار یوری کوسُوک کو دفاعی امور کا نگران مقرر کیا ہے۔ کوسُوک زرعی دولت کے حامل ہیں۔ وہ صدارتی انتظامیہ کا حصہ رہتے ہوئی فوج کے اندر سے بدعنوان عناصر کو تلاش کر کے فارغ کریں گے۔ یوکرائنی فوج پر مشرقی یوکرائن کے باغیوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں۔

سابق وزیر دفاع میخائلو کووالتصویر: Reuters

ملکی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیٹرو پوروشینکو کا کہنا تھا کہ فوج کی نئی تشکیل کا عمل انتہائی نچلی سطح سے شروع کر دیا گیا ہے اور اب ایک ایسی فوج کو تیار کیا جائے گا جو میدان جنگ میں لڑنے کے ساتھ ساتھ جیتنے کا ہنر بھی جانتی ہو۔ پارلیمنٹ میں وزیر دفاع والیری ہیلیٹی نے تقرری کے بعد اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یوکرائن اِس صورت حال میں جیتے گا اور اراکین پارلیمنٹ اُن کا یقین کریں کہ باغیوں کے علاقوں میں فتح کی پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا۔

پوروشینکو کے مشرقی یوکرائن کی صورت حال پر لیے گئے فیصلوں پر متضاد تبصرے سامنے آئے ہیں۔ کییف میں قائم ایک تھنک ٹینک ورلڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹرالیونا گیٹمنچوک کا کہنا ہے کہ یوکرائنی معاشرے میں بےصبری بڑھ رہی ہے اور وہ نئے صدر سے مثبت نتیجہ طلب کرنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ شورش زدہ علاقوں کے لوگ جنگی حالات سے تنگ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مشرقی یوکرائن کے لوگوں نے اِس یقین کا بھی اظہار کیا ہے کہ ملٹری لیڈر شپ میں تبدیلی یقینی طور پر فائدہ مند ثابت ہو گی۔ کییف کے ایک اور تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ برائے گلوبل اسٹریٹیجیز کے ڈائریکٹر وادم کاراسیف کا خیال ہے کہ پوروشینکو عوامی سطح سے پریشر کو محسوس کر رہے ہیں۔ وادم کاراسیف نے وزارت دفاع پر پولیس کے سابق اعلیٰ اہلکار کی تقرری کو انتہائی حوصلہ مند قرار دیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ یوکرائنی لوگ بےچینی سے مشرقی یوکرائن کے بحران کے اختتام کی خبر سننا چاہتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں