یوکرائن کے علیحدگی پسند جنگ بندی پر تیار
10 اگست 2014
یوکرائن کا مشرقی شہر ڈونیٹسک روسی زبان بولنے والے ماسکو نواز مسلح باغیوں کا آخری بڑا مرکز ہے، جسے کییف حکومت کے سرکاری دستوں نے کئی دنوں سے محاصرے میں لے رکھا ہے۔ کییف سے ملنے والی خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق باغیوں کی اعلان کردہ نام نہاد ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کے وزیر اعظم اور علیحدگی پسندوں کے رہنما آلیکسانڈر ذخارچَینکو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی علاقے میں انسانی المیے کو مزید شدت اختیار کر جانے سے روکنے کے لیے جنگ بندی پر تیار ہیں۔
اپنے اس بیان میں آلیکسانڈر ذخارچَینکو نے مزید کہا کہ ایک ملین کی آبادی والے شہر ڈونیٹسک میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہے اور شہریوں کو اشیائے خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ علیحدگی پسند باغی ڈونیٹسک شہر کا دفاع کرنے پر بھی تیار ہیں۔
روس نواز باغیوں کے اس رہنما کے مطابق شہر میں دستیاب اشیائے خوراک ختم ہونے کو ہیں اور ادویات کی فراہمی کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے بھی کوئی راستے نہیں۔ ’’ایسے میں کسی بھی نئی اور مزید منفی پیشرفت سے متاثرہ شہریوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو جائے گی۔‘‘
اس بیان کے جواب میں کییف میں یوکرائنی حکام نے کہا ہے کہ وہ بھی جنگ بندی پر تیار ہیں تاہم صرف اس شرط پر کہ باغی اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ آلیکسانڈر ذخارچَینکو کے اس بیان پر فوری طور پر یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو کے دفتر کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
’روسی دستوں کا داخلہ ناکام‘
قبل ازیں کل ہفتے کی شام کییف حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یوکرائن کی فورسز نے ملک کے مشرق میں روس کی ایک ایسی کوشش کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد ماسکو کے فوجیوں کو امن دستوں کے روپ میں روس سے یوکرائن بھیجنا تھا۔ کییف میں حکام کے مطابق ناکام بنا دی گئی روس کی اس مبینہ فوجی دراندازی کے ساتھ مشرقی یوکرائن میں اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ایک بڑا فوجی تنازعہ کھڑا کیا جانا تھا۔ اس یوکرائنی دعوے کے ردعمل میں ماسکو میں جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں اسے کییف کی ’من گھڑت کہانی‘ قرار دیا گیا ہے۔
روس کو امریکی، جرمن تنبیہ
اسی دوران واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کل ہفتے کے روز امریکی صدر باراک اوباما نے یوکرائن کے بحران کے بارے میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے ماسکو کو خبردار کرتے ہوئے آپس میں اتفاق کیا کہ روس کو یوکرائن میں ’انسانی بنیادوں پر امداد کے نام پر مداخلت‘ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس مکالمت میں باراک اوباما اور انگیلا میرکل نے اتفاق کیا کہ یوکرائن کی ’’حکومت کی واضح اور باقاعدہ منظوری کے بغیر روس کی طرف سے یوکرائن میں کوئی بھی مداخلت، چاہے وہ انسانی بنیادوں پر ہمدردی کے نام پر کی جائے، ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہو گی جس کے لازمی طور پر اضافی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔‘‘